Sunday, February 22, 2026

PWP delegation meets PM Raja Fasal Mumtaz Rathore

 A high-level delegation of Pasban Watan Pakistan, led by its central president Muhammad Tahir Khokhar, met with Prime Minister of Azad Kashmir, Faisal Mumtaz Rathore, in Islamabad. Miss Noreen Noor, Vice President, Ahsan Rashid Dar, Information Secretary, Saad Khokhar, and Rehan were part of the delegation.


The delegation briefed the Prime Minister about the long-standing issues faced by Overseas Kashmiris and local citizens, including the OPF Housing Scheme scandal. The delegation highlighted that the scheme, meant for the welfare of Overseas Kashmiris, has been mismanaged, with no development work done, and basic amenities not provided. They demanded cancellation of illegal allotments, restoration of public land, and action against those responsible.


The Prime Minister assured the delegation of a thorough inquiry, and promised to resolve the issues. He emphasized the importance of protecting Overseas Kashmiris' rights and investments, and assured that no one will be disappointed. The delegation thanked the Prime Minister for his serious approach and hoped for justice for the affected individua


ls .

Central Information Secretary Pasbane Watan Pakistan along with party delegation met with PM AJK Raja Fasil Mumtaz Rathore





 Pasbane Watan Pakistan Delegation headed by the president M. Tahir Khikhar, included Vice Predident Miss Noreen Noor, Central Information Secretary Ahsan Rashid Dar met PM AJK Fasal Rathore at Kashmir House Islamabad. Delegation discusses the problems fased by the people of AJK in Health and Education.

Prime Minister assured the ddlegation to resolve the priblems.

Ahsan Rashid Dar announced to contest election from.Kutla Constituency

 مظفرآباد: سیکرٹریٹ ایکشن کمیٹی آزادکشمیر کے سابق چیئرمین و مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاسبان وطن پاکستان احسن رشید ڈار نے چیف سیکرٹرری آزادکشمیر، سینئر ممبربورڈ آف ریونیو اورکمشنر مظفرآباد ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ مظفرآباد میں بدنام زمانہ لینڈ مافیا اور پٹوارمافیا کی کارستانیوں کا نوٹس لیاجائے۔ چند گنے چنے بدنام زمانہ پٹواری اس وقت دیدہ دلیری سے مظفرآباد میں لوگوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں، ریکارڈ مال میں توڑ پھوڑ کررہے ہیں،انتقال اور بیعنامہ کے لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں لیکن محکمہ مال کے حکام آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں جو افسوسناک ہے۔ نلوچھی، چہلہ بانڈی، گوجرہ، طارق آباد اور دیگر علاقوں میں چند پٹواریوں نے ماضی قریب میں انت مچا رکھی ہے اور انہیں کوئی پوچھننے والا نہیں۔ درجنوں درخواستیں حکام مال اور انٹی کرپشن میں موجود ہونے کے باوجود ان نوسربازوں کے خلاف کوئی کاررواؤی نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے محکمہ ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ احسن رشید ڈار نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کا دفتر تک ان بدنام نوسربازوں سے محفوظ نہیں اور بعض نوسربازپٹواری ڈی سی آفس بیٹھ کر لوکوں کی جائیدادوں کی ڈیلز کررہے ہیں، انہیں آپس میں لڑارہے اور مقدمہ بازی میں الجھارہے ہیں۔ جائیداد کے تنازعوں میں جانیں تک ضائع ہوچکی ہیں اور ان تنازعات کے پیچھے لینڈ مافیا اور نوسربازپٹواریوں کاہاتھ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم،چیف سیکرٹری اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے گنے چنے چند بدنام زمانہ پٹواریوں کی جائیدادوں کاحساب لینے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ مال عوام کو بتائے اس کے سکیل پانچ کے ملازم جو ماہانہ 35ہزار تنخواہ لیتے ہیں اپر چھتر، نلوچھی اور گوجرہ میں کروڑوں کی جائیدادوں کے کیسے مالک بن گئے، ان نوسرباز پٹواریوں کو فی الفور معطل کر کے مظفرآباد بدر کیاجائے اورکرپشن کاپیسہ ریکور کر کے عوام کو واپس دلوایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکام مال نے نوٹس نہ لیا تو پاسبان وطن پاکستان راست اقدام پر مجبور ہو گی عوام کو نوسرباز پٹواریوں کے رحم 


M. Tahir Khokhar the powetful voice of Overseas Kashmir

 طاہرکھوکھر۔۔۔۔اوورسیز کشمیریوں کی طاقتور آواز

خبر ہے کہ اوورسیزپاکستانیزفاؤنڈیشن 15، 16اور17فروری کو پی سی ہوٹل مظفرآباد میں اوورسیزکشمیریزکنونشن منعقد کرنے جارہی ہے۔جس کیلئے سینکڑوں شرکاء کی خفیہ فہرست مرتب کی جارہی ہے جو فاؤنڈیشن کے اخراجات پر مظفرآباد آئیں گے اور ٹرانسپورٹ، رہائش، دعوتوں وغیرہ پر کروڑوں روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔جبکہ حکومت آزادکشمیر بھی اس کنونشن کیلئے معاونت کررہی ہے اور ایک اعلی سطعی بااختیار Steering Group بھی تشکیل دیاگیاجس میں وفاقی حکومت کے نمائندگان کے علاوہ چیف سیکرٹری آزادکشمیر، سیکرٹری سروسز، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، سیکرٹری آبی وسائل و دیگر شامل ہیں۔ اس اعلی سطعی بااختیار کمیٹی کا مقصدکنونشن کو کامیاب بنانا ہے۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقریباً 2 ملین کشمیری اوورسیزجووطن عزیزکے زرمبادلہ کے سب سے بڑے کنٹری بیوٹر اور ہمارے بلا تنخواہ سفیر ہیں کیلئے حکومت پاکستان، آزادکشمیر یا او پی ایف فاؤنڈیشن نے ماضی میں کیا کیا کہ اس میں جو کمی پیشی رہ گئی ہے پر غور کرنے کیلئے کروڑوں روپے کے اخراجات سے کنونشن کیا جارہا ہے۔ جواب یقینا مایوس کن ہے۔مظفرآباد میں صر ف ایک او پی ایف سکول، جہاں چار پانچ کمروں میں تقریباً ایک ہزار کے قریب بچوں کو بھیڑبکریوں کی طرح ٹھونساگیا ہے کے علاوہ ویلفیئر کی کوئی سکیم یا منصوبہ موجود نہیں۔

میرپور میں 45سال قبل OPFنے اوورسیزکشمیریوں کیلئے ایک رہائشی سکیم/منصوبہ او پی ایف ہاؤسنگ سکیم کے نام سے شروع کیا۔۔۔جو آج تک کامیاب نہیں ہوسکااور آبادکاری یا Development شروع نہیں ہوسکی۔فاؤنڈیشن نے ایک جانب اوورسیزکشمیریوں کو جھانسادے کر اربوں روپے پلاٹوں کے نام پرحاصل کئے جبکہ دوسری جانب رہائشی سکیم کے ماسٹر پلان کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے فارم ہاؤسز غیر متعلقہ لوگوں کو بیچ ڈالے۔۔۔ماسٹر پلان کی مکمل خلاف ورزی کی گئی۔۔لینڈ مافیا کے ساتھ ساز باز کر کے اوورسیزکی اربووں روپے کی سرمایہ کاری ضائع کر دی گئی ہے اور یہ پراجیکٹ کرپشن کی عملی تصویربن چکا ہے، اس سکیم کی ناکامی اور کرپشن کے باعث اوورسیز مزید سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں۔

سابق وزیر حکومت، صدر پاسبان وطن پاکستان طاہرکھوکھرجو اوورسیزکشمیریوں کی مخص نشست پر آزادکشمیر کی قانون اسمبلی میں پانچ سال تک اوورسیز کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے اوورسیز کشمیریوں کے حقوق کیلئے مختلف فورمز پرآواز بلند کرتے رہے ہیں، اپنے ذاتی اخراجات سے اوورسیزکے مسائل کے سلسلہ میں یورپ و گلف کے دورہ جات بھی کرتے رہے ہیں، اوورسیزکے مسائل کی مسلسل نشاندہی کرتے رہے ہیں۔جن میں ان کی جائیدادوں پر قبضہ، سرمایہ کاری و دیگر سماجی مسائل بھی شامل ہیں۔ او پی ایف ہاؤسنگ سکیم میرپور کے حوالے سے طاہرکھوکھر گزشتہ دو تین ماہ سے مسلسل پرنٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے سکیم کی ناکامی، اوورسیز کے اربورں روپے ڈوبنے، کرپشن اور خرد برد کی نشاندہی کررہے ہیں۔لیکن فاؤنڈیشن ان مسائل کو ایڈریس کئے بغیر کروڑوں روپے کے اخراجات سے کنونشن منعقد کروانے جارہی ہے جس کا مقصد مسائل سے توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں نظر آ رہا۔

مناسب ہو گا کہ وفاقی حکومت صورت حال کا نوٹس لے اور سابق وزیرحکومت، اوورسیز کشمیریوں کے نمائندہ جو آج کل ایک قومی سطع کی سیاسی جماعت پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر بھی ہیں کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور کنونشن میں حقیقی اوورسیزاور ان کے نمائندوں کی مشاورت سے اوورسیزکشمیریوں کے مسائل، سرمایہ کاری اور دیگر سماجی مسائل، ویلفیئر کیلئے اقدامات کیلئے ٹھوس تجاویز مرتب کی جائیں۔امید ہے کہ وفاقی حکومت اور حکومت آزادکشمیراس صورت حال کا نوٹس لے گی۔ تاکہ کروڑوں روپے کے یہ اخراجات بھی ضائع نہ ہوں اور اوورسیزکشمیری جو ہمارے بلا تنخواہ سفیر ہیں کے مسائل بھی حل ہوں اور انہیں سرمایہ کاری پر راغب کر کے آزادکشمیر میں معاشی ترقی و بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ 


#PMLaptopScheme2025#AJKRightsmovement#AJKGovernment#AJKGovernment#PakistanZindabad#uk#kashmir#kashmirvalley

Ahsan Rashid Dat Central Information Secretary Pasbane Watan Party meets Sardar Usman Attiwue

 Central information secretary Pasbane Watam Pakistan Ahsan Rashid Dar cslled on senior leader and president youth wing All Jammu & Kashmir Muslim Conference Sardar Usman Atique Khan. Both dissvussed the isses faced by pdople of AJK and reitrate govt. AjK for solutiom



Karachi Agreement A

 معاہدہ کراچی۔۔۔۔غلامی کی دستاویز یا امید کی کرن 

(معاہدہ کراچی کے بارے میں اپنی رائے اور مشاہدات آپ کے ساتھ شیئر کرنے جارہا ہوں، جانتا ہوں کہ بہت سے دوستوں کو برا لگے گا لیکن میں زمینی حقائق پر بات کروں گا جس کے بہت سے گواہ بھی آپ کو مل جائیں گے)

آزادکشمیر میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے ساتھ ہی پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر معاہدہ کراچی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے اور دوسری جانب یہ رونا بھی رویا جارہا ہے کہ آزادکشمیر کے سینئر پولیس آفیسرز کے ساتھ زیادتی ہو گئی کیونکہ ایک جونیئر آفیسر ان پر مسلط کر دیا گیا۔تنقید کانشانہ بنانے والے اکثر دوست ایسے ہیں جو سسٹم کو قریب سے نہیں جانتے اور باہر رہ جب زمینی حقائق سے آپ آگاہ نہیں ہوتے تو انقلابی نعرے اکثر پرکشش ہی لگتے ہیں اور بعض قوتیں ان نعروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں حالانکہ نعرے لگانے والوں کا ان مقاصد سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

میں نے آزادکشمیر کی بیوروکریسی کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے، حکومتی نظام کو بھی۔۔۔ فیصلہ سازی کو بھی۔۔۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آزادکشمیرکی تاریخ میں چند ہی گنے چنے آفیسرز جن میں طارق مسعود،خلیل قریشی، شیخ حفیظ الرحمن، راجہ فاروق نیاز،نعیم شیراز، اکرم سعیل،سردار رحیم، صادق ڈاراور موجودہ بیوروکریسی میں سید شاہد محی الدین قادری کے سوا بقیہ اکثریت صرف اور صرف ان پڑھ سیاسی قیادت کے منشی کی حیثیت سے کل بھی کام کرتی رہی اور آج بھی کررہی ہے۔قومی سوچ اور قوت فیصلہ سے محروم، کرپشن، ان پڑھ سیاسی قیادت کی منشی گیری، کمیشن اور اقرباء پروری میں لتھڑی ہوئی۔۔۔۔۔نااہل بیوروکریسی۔۔۔۔حقیقت میں تو یہ فیڈل سیکرٹریٹ میں۔۔۔ قاصد۔۔۔لگنے کے قابل بھی نہیں۔

لینٹ آفیسرز کو گالیاں دینا ایک فیشن بن چکا ہے دوستو۔۔۔۔ماضی قریب میں اور معاہدہ کراچی کے بعد ایک ہی موقع ایسا آیا کہ اتفاقاً غالباً اکاؤنٹس گروپ کے ایک آفیسر ملک صادق جن کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھا شاید۔۔۔۔بدقسمتی سے انہیں سیکرٹری مالیات آزادکشمیر تعینات کردیاگیا۔جن لوگوں نے ملک صادق سیکرٹری مالیات کا دور دیکھا ہے وہ گواہی دیں گے کہ آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری خزانہ اور محکمہ زکوۃ برابری کی سطع پر آگئے۔۔۔۔وزراء کی چٹوں پر فنڈز ریلیز ہوتے رہے۔۔۔جنگلات کی چند فٹ لکڑی کی خاطر بھی کروڑوں روپے کے فنڈز ریلیز ہوئے۔۔۔مالیاتی ڈسپلن نامی چیز ایک خواب بن گئی۔۔۔تقرریوں، تبادلوں کے بدلے سرکاری خزانہ کی ڈیلیں ہوتی رہیں۔۔۔وہ تو شکر ہے کہ موصوف ریٹائرڈ ہو گئے اور ان کے جانے کے بعد ان کے ماتحت آفیسرز اور سٹاف نے بھی کانوں کوہاتھ لگائے۔۔۔اور شکرانے کے نوافل ادا کئے کیونکہ ریاست کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ پیدا ہوچکا تھا۔۔۔۔اور دوستو! میں آپ کو بتاتا ہوں کہ تب غالباً یہ 10،12سال قبل کی بات ہے، وفاق میں اعلی سطع پر فیصلہ سازوں نے یہ فیصلہ کیاتھا کہ آئندہ آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے کسی بھی آفیسر کو چیف سیکرٹری، سیکرٹری مالیات، انسپکٹر جنرل یااکاؤنٹٹ جنرل تعینات نہیں کیا جائے حالانکہ ملک صادق فیڈرل گورنمنٹ کے آفیسر تھے، موصوف کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھاذرا سوچیئے اگر ان کی جگہ کوئی ایسا آفیسر جو آزادکشمیر سروس کا ہوتاسیکرٹری مالیات لگ جاتا تو کیا ہوتا۔۔۔۔سوچ کے بھی خوف آتاہے۔۔۔۔تو دوستو! معاہدہ کراچی آج بھی زندہ ہے تو صرف اور صرف ہماری وجہ سے ورنہ فیڈرل میں بیٹھے پالیسی سازوں کو تو شاید کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔مسئلہ لوکل آفیسرز کی Capacity کا ہے کیونکہ یہ سارے کے سارے تالاب کے۔۔۔ڈڈوو۔۔۔ ہیں۔۔۔۔(اور ہاں چیف سیکرٹری کو گالیاں دینا بھی ایک فیشن ہے۔۔۔۔تو دوستو! کان کھول کے سنو۔۔۔۔چیف سیکرٹری آپ کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ۔۔۔۔آپ کی قاتل اور کرپٹ سیاسی قیادت کے سامنے ہمیشہ آپ کی خاطر دیوار بن کر کھڑا ہوتا ہے اور اگر آج بھی آزادکشمیر میں کہیں میرٹ اور انصاف پر کوئی عوامی فیصلہ ہوتا ہے جس سے براۂ راست عام آدمی مستفید ہو۔۔۔۔تو اس کے پیچھے چیف سیکرٹری کاہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔ایک عام آدمی، پڑھے لکھے نوجوان کیلئے جو کام، جو کردار چیف سیکرٹری کی پوسٹ ادا کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔۔۔وہ آج تک نہ کوئی عدالت کرسکی اور نہ ہی کوئی سیاسی لیڈر۔۔۔مجھے گالی دینے سے قبل سول سیکرٹریٹ جائیے اورگواہائیاں اکٹھی کیجئے کہ اگر چیف سیکرٹری کی آسامی نہ ہوتی اور چیف سیکرٹری لینٹ آفیسر نہ ہوتے کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔شاید آپ ڈوگرہ دور کو بھول جاتے۔۔۔۔اور یہاں جنگل کا قانون نافذ ہوتا)

(مجھ سے اختلاف یا تنقید سے قبل احباب سے گزارش ہے کہ یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں، آج بھی آپ محکمہ مالیات یا سول سیکرٹریٹ جا کر۔۔۔لوکل برانڈ سیکرٹری مالیات۔۔۔ملک صادق صاحب۔۔۔۔کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔۔موصوف نے آئندہ کیلئے کشمیری آفیسران کی ترقیابی کے دروازے بند کروائے۔)

دوسرا میرا ذاتی تجربہ ہے۔۔۔۔۔۔آج سے چند ماہ قبل ایک انتہائی نازک وقت میں۔۔۔جب میں کسی حادثہ کے قریب تھا۔۔۔۔میں نے پولیس اور انتظامیہ سے مدد مانگی۔۔۔انسپکٹر جنرل پولیس۔۔۔معذرت نام ذہن سے اتر گیا ہے۔۔۔غالباً رانا جبا ر۔۔۔مظفرآباد میں موجود تھے۔۔۔۔پولیس نے نہ چاہتے ہوئے بھی رات 12 بجے کے بعد حرکت کی اورکسی ممکنہ حادثہ کو روکا۔۔۔۔اس کے کچھ عرصہ بعد آئی جی (لینٹ آفیسر)غالباً رخصت پر ہیں یا بیرون ملک۔۔۔ایک مقامی آفیسر کے پاس آئی جی کا چارج ہے۔۔۔میں ایک بہت حساس قسم کی درخواست ایس ایس پی مظفرآباد کو دیتا ہوں۔۔۔جس پر دوسرے ہی روز چیف سیکرٹری آزادکشمیر بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ سے تین روز میں رپورٹ مانگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آئی جی لینٹ آفیسر موجود نہیں۔۔۔۔میں اپنے طور پر محکمہ پولیس سے کارروائی کی درخواست کرتا رہتاہوں۔۔۔۔چیف سیکرٹری آفس سے بھی مرکزی دفتر پولیس اور ایس ایس پی آفس کو میرٹ پر کارروائی کا کہا جاتا ہے لیکن۔۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد ایک رپورٹ ہمارے مقامی آئی جی صاحب کے دستخطوں سے غالباً چیف سیکرٹری آفس ارسال ہوتی ہے جس کی کاپی راقم کو تاحال نہیں دی جاتی لیکن میری معلومات کے مطابق پولیس کارروائی سے معذرت کرتے ہوئے عدالت جانے کا مشورہ دیتیہے۔۔۔۔۔

مختصراً پولیس ڈیپارٹمنٹ کسی حوالدار یا سیاسی ٹھیکیدار سے Influence ہوتا ہے اور انصاف Compromise ہوجاتا ہے۔۔اگر آئی جی (لینٹ آفیسر) موجود ہوتے تو محکمہ پولیس چیف سیکرٹری کو گول مول قسم کی رپورٹ ارسال کرنے کی کبھی جرات نہ کرتا۔۔۔۔

تو دوستو!یہ میرا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ معاہدہ کراچی غلامی کی دستاویز نہیں بلکہ میرے جیسے بے وسیلہ شہریوں کیلئے امید کی ایک کرن ہے۔۔۔۔۔اگر یہ لینٹ آفیسر نہ ہو ں تو اپنے خون سے لکھ کے دیتا ہوں کہ برادری ازم اور کرپشن میں لتھڑی ہوئی آزادکشمیر کی بیوروکریسی اور نام نہاد بیہودہ سیاسی قیادت آپ سے جینے کاحق تک چھین لیتی اور آپ ڈوگرہ راج کو بھی بھول جاتے۔


(دوستو!یہ میری ذاتی رائے ہے۔۔۔جو یقینا غلط ہوسکتی ہے۔۔۔لیکن میں نے زمینی حقائق کی روشنی میں بات کی ہے۔۔۔ا


Ahsan Rashid Dar Demands Presidential Elevtiom


 

Corrouption

 ایک رکشے والے کے آگے محکمہ سروسز بے بس

جاوید رکشہ سمیت جو 4 چور ناجائز گاڑیاں استعمال کررہے ہین۔۔۔اخراجات ٹرانسپورٹ آفیسر، ایس او ٹرانسپورٹ سے لیکر سیکرٹری سروسز سے وصول کئے جائیں- سب کو کرپشن اور نااہلی میں معطل کیا جا کر انکوائری کی جائے۔

کیا قانون صرف احسن رشید ڈار کے لئے ہے-

۔۔۔۔تم سب پر لعنت بے شمار۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Breakthrough im AJK politics

 انہونی۔۔۔۔اور دیوار برلن ٹوٹ گئی

سرخ اور سبز۔۔۔دو رنگ نہیں۔۔۔دو نظریات ہیں (لفٹ اینڈرائیٹ)۔۔۔آگ اور خون۔۔۔آزادکشمیر کی سیاست کبھی ان دو نظریات کی چکی میں پستی رہتی تھی۔۔۔کئی جانیں ضائع ہوئیں۔۔۔تشدد کاراستہ اپنایا گیا، حاصل ضرب صفر۔۔لیکن تشدد نے الٹا اثر کیاجس کودبانے کی کوشش کی گئی وہ اتنی ہی قوت سے ابھرا اور آج۔۔۔سرخ۔۔آزادکشمیر کی سیاست کی افق پر چھا چکا ہے۔۔۔۔مجاہد اول کے غالباًتین دھائیاں قبل الفاظ (امان اللہ خا ن کے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کال کوکچلنے کی تمام کوششوں کے ناکام ہونے پر) آزادکشمیر میں اصل طاقتیں صرف دو ہی ہیں۔۔۔۔۔سرخ اور سبز(واضح رہے سبزکی نمائندگی کل بھی مسلم کانفرنس کرتی تھی اور آج بھی۔۔۔ سرخ کی جے کے این ایس ایف اور جے کے ایل ایف کل بھی اور آج بھی)۔۔۔حقیقت کا برملا اعتراف تھا۔۔مجاہداول کی دور اندیشی کے مخالفین تک قائل ہیں۔۔۔لیکن اس برملا اعتراف کے بعد بھی  ً دبانے  ً کی پالیسی ترک نہیں کی گئی اورکہیں نہ کہیں طاقت کااستعمال جاری رہا۔۔۔بہرحال نظریات کا یہ ٹکراؤ کسی پالیسی کے تحت روک دیاگیاتو رزلٹ یہ نکلا کہ آزادکشمیر کی سیاست قومی ایشوز سے ہٹ کر کھمبا، ٹوٹی، اقرباء پروری،کرپشن، میرٹ کی پامالیوں اور لوٹا کریسی کی حد تک محدود ہو کر رہی گئی جس کے نتائج اب پوری قوم بھگت رہی ہے۔۔۔۔۔اور عوامی ایکشن کمیٹی شاید۔۔۔ہمارے بڑوں کے انہی اعمال کا نتیجہ ہے۔۔۔یہ ایک ایسا کمبل ہے دوستو!جس سے تم لاکھ چاہو جان چھڑانے کی اب چھوٹنے والی نہیں۔

یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں۔۔۔کوئی عام تصویر نہیں۔۔۔ایک تاریخ ہے۔۔۔دیوار برلن ٹوٹ سکتی ہے۔۔۔۔ایک جانب سرخ مفلر میں سید اکابر شاہ اور دوسری جانب سردار عثمان عتیق۔۔۔۔آزادکشمیر کی کھوکھلی سیاست اورلوٹاکریسی، ضمیر فروشی میں لتھڑی ہوئی سیاسی قیادت کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ۔۔۔۔۔۔۔دونوں اپنے نظریات کی معراج پر۔۔۔۔۔صحیح اور غلط کا سوال ہی نہیں۔۔۔۔دنیا کدھر جارہی ہے۔۔۔کوئی پروا نہیں۔۔۔۔ایک کی سیاست ختم اور دوسرے کا مستقبل تاریک۔۔۔۔لیکن دونوں نظریات کے علمبردار مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ۔۔۔پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا اور کتنا مزید بہے گا۔بقول شاعر

زمانہ معترف ہے ہمارے استقامت کا

نہ ہم سے قافلہ چھوٹانہ ہم نے رہنما بدلا

راہ الفت میں گو ہم پر بڑا مشکل مقام آیا

نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راستہ بدلا

اگر سید اکابر حسین شاہ اور سردار عثمان عتیق ایک دوسرے کے نظریات کا احترم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے گلے مل سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے سچے یا جھوٹے کسی بھی قسم کے خداکو گالی نہ دینے کا عزم کرسکتے ہیں تو باقی پھر کیا بچتا ہے۔۔۔بس اس سلسلہ کو وسیع کیجئے۔۔۔۔نتائج دیکھنا۔۔۔جنہیں تم غدار کہتے۔۔۔اور سمجھتے ہو۔۔۔خود سے بڑھ کر وفادار اور محب وطن پاؤ گے۔۔۔کوئی راکٹ سائنس نہیں۔۔۔۔بس منجھی ٹھوکنا چھوڑو۔۔۔۔ان کی بات سنو۔۔۔گلے لگاؤ۔۔۔۔پھر کرشمہ دیکھنا۔۔۔

آزادکشمیر کے باشعور عوام نے ارتقاء کاتاریخ سفر طے کرتے ہوئے۔۔۔لوٹوں، نظریات فروشوں اورسیاسی مداریوں۔۔۔کو اب اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیا ہے۔۔۔۔۔تو میری دانست میں دو حقیقی خالص سیاسی و نظریاتی تحریکوں کو ڈائیلاگ کا راستہ اپنا کر۔۔۔انتہا پسندی کو ترک کر کے۔۔۔کچھ لو اور کچھ دو۔۔۔۔جیؤاور جینے۔۔۔۔کے تحت اس خلاء کو پر کرنے کیلئے آگے آنا چاہیے۔۔۔۔کشمیر کافیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔۔۔۔۔اور رائے شماری میں ہر کشمیری اپنی رائے دینے میں آزاد ہوگا۔۔۔۔ہنوز دہلی دور است۔۔۔۔۔ پھر لڑائی کیسی۔۔۔۔دہلی پہنچنے تک صرف اتنی سی بات تسلیم کرنی ہے اور خطہ سے غربت، جہالت،بے روزگاری، سیاسی آزادی، معاشی ترقی، نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور برادری ازم کے بت پاش پاش کرنے کیلئے جدوجہد، ۔۔۔۔ایک حقیقی سیاسی قیادت۔۔۔۔دشمن کی تمام سازشیں خود ناکام ہو جائیں گی۔۔۔۔ایک چارٹر آف انڈرسٹینڈنگ۔۔۔۔اور بس۔۔۔ 

فقیرانہ آئے، صدا کرچلے

میاں خوش رہو،ہم دعا کر چلے

#PMLaptopScheme2025 #AJKRightsmovement #ajknews #army #AJKGovernment #PakistanZindabad #AJKPolice #ADIALA #mareeffoundation #Pakistan


Tuesday, January 6, 2026

New Year Message from PWP

 اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔۔ پاسبان وطن پاکستان کے چیئرمین شیخ مختار احمد ۔مرکزی صدر و سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر ۔ نائب صدر محترمہ نورین نور اور جنرل سیکرٹری امجد محمود بھٹی نے نئے سال کی آمد کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نیا سال ریاست کے عوام کے لیے نئی امیدنئے خواب اور ایک نئی سیاسی سمت کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ عوام ماضی کی ان غلطیوں کو دہرانا بند کریں جنہوں نے قوم کو بار بار بحرانوں میں دھکیلا۔انہوں نے عوام کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے مورثی اور خاندانی سیاست کی گرفت میں ہیں جہاں اقتدار چند مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتا رہتا ہے عملاً پاکستان اور کشمیر میں ایک ایسا دو جماعتی نظام نافذ ہے جو نسل در نسل اقتدار پر قابض رہ کر عوام کے وسائل حقوق اور مستقبل کا استحصال کر رہا ہے جو نسل در نسل اقتدار پر قابض رہ کر عوام کا خون چوس رہا ہے یہی وجہ ہے کہ عام آدمی آج بھی بنیادی سہولیات زندگی تعلیم صحت روزگار اور تحفظ سے محروم ہے۔ طاہر کھوکھر نے کہا کہ موجودہ حکمران طبقہ عوام سے کٹ چکا ہے اور اقتدار کے نشے میں اس حد تک مبتلا ہو چکا ہے کہ انہیں عوام کی جان و مال کی کوئی پروا نہیں رہی آج عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں یہ تمام حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ سیاسی نظام عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر نے کہا کہ نئی نسل اور ریاست کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مورثی خاندانی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے جب تک سیاست کو چند خاندانوں کی جاگیر سمجھنے کا تصور ختم نہیں ہوگا اس وقت تک نہ تو حقیقی جمہوریت قائم ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوام کو انصاف اور خوشحالی مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاسبان وطن پاکستان نے عوام کو ایک نئی سیاسی جماعت نئی سوچ اور نئی قیادت فراہم کی ہے جس کا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ نظام کی اصلاح ہے اس جماعت کے پلیٹ فارم سے قابل پڑھے لکھے باصلاحیت اور دیانتدار نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاکہ وہ ملکی و ریاستی سیاست میں مثبت کردار ادا کر سکیں کشمیر اور پاکستان کو آج ایسے نوجوانوں کی اشد ضرورت ہے جو ذاتی مفادات برادری ازم اور خاندانی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صرف عوام اور ریاست کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں نیا سال عوام کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز ہونا چاہیے جس میں عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں ریاست اور ملک کو بچانے کے لیے دو جماعتی خاندانی اور مورثی سیاسی جمود کو توڑنا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ یہی جمود ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جب تک چند مخصوص خاندان کی اجارہ داری ختم نہیں ہوگی اس وقت تک حقیقی جمہوریت اور عوامی خوشحالی کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔

Ahsan Rashid Dar to Contest Elections 2026

 Ahsan Rashid Dar, a prominent social activist and former Chairman of the Secretariat Election Committee, has announced his candidacy for the upcoming elections from Kotla constituency. He stated that Kotla is the most backward constituency in Azad Kashmir, with 70% of the population living below the poverty line. He blamed the political leadership, particularly Sardar Javed Ayub, Ms. Sadaf Sheikh, Ms. Noreen Arif, and Raja Arif, for exploiting the people by entangling them in petty politics and securing their own future generations' prosperity.


In a statement, Ahsan Rashid Dar said that the dark era of Kotla is coming to an end, and the people have become aware. In the upcoming elections, the people of Kotla will change the course of history and hold the looters accountable. He said he will be the voice of the oppressed and marginalized people of Kotla, and the voice of the workers, laborers, and unemployed youth will not only be heard in the corridors of power but will also shake the foundations of the establishment.


He announced that the process of accountability will begin before the elections, starting with an audit of the MLA funds for the past 15 years. The people's money was embezzled by a handful of power-brokers, but it will be recovered and spent on the welfare of the poor people of Kotla. He appealed to the people of Kotla to support him and take their rights from the traditional politicians, saying he is ready to make any sacrifice for the people of Kotla.



#HandsOff_MyHijab #AJKGovernment #AJKPolice #PMLaptopScheme2025 #ADIALA #taiwa #love

Laurie wiseberg

 In late 2023, for the second time, I succumbed to severe depression, exhausted by the circumstances, and remained confined to a room for over a year. In late 2025, perhaps October or November, with the help and encouragement of some good friends, I started reflecting on my life after returning to normalcy. The results were disheartening. In the jungle of human life, I tried to count the good people I met, and they were just a few. May Allah keep them all safe.


Among those few people, I remembered Dr. Laurie S. Wiserg, my ideal, an advocate for basic human rights, who spent her life working for the welfare of humanity affected by natural disasters and war. Laurie was appointed as Head of Protection Cluster in Muzaffarabad in 2006. At that time, over 128,000 registered and countless unregistered IDPs were living in miserable conditions in Muzaffarabad and Bagh camps. The government and other agencies were present to further devastate these victims.


Fortunately, Pervez Musharraf was the President of Pakistan, Cynthia Veliko was the UN Resident Coordinator in Pakistan, and Laurie Wiwseberg, followed by Ustina Kuprechik, were present in Muzaffarabad. If they weren't there, our political leadership and bureaucracy would have pushed us back to the Stone Age.


After returning to life post-depression, I checked Laurie's Facebook wall, which was silent, and her inbox had no emails after 2023. Further checks revealed that Laurie Wiserg had passed away on October 11, 2023. This news was shocking for me, as I never imagined a smiling face could become silent. Anyway, it's Allah's will; every human has to play their part on this stage and disappear behind the curtain.


I pay tribute to Laurie Wiseberg's services to humanity and basic human rights. During her 6-month stay in Muzaffarabad, Laurie left an indelible mark of service to humanity, and today, she is still alive in the hearts of hundreds of IDPs from that time. Her admirers from Leepa to Neelum Valley are still there.


I remember how many innocent, simple, and elderly women from Jhelum and Neelum Valley would invite Laurie to stay with them forever, and she would smile and remain silent. I know that Laurie's passing is a shock to the humanitarian community, and her void may never be filled. It's a great tragedy for her family, especially her son and grandchildren, whom she loved dearly.


We, the 2025 earthquake victims of Muzaffarabad, share the grief of Laurie Wiseberg's family. Goodbye, not only Laurie of Montreal, but Laurie of the World. 



Memories

 A refferecnce from Laurie Wiseberg and Pics taken by her in 2006 and presented to us.


Your memories will remain alive in our hearts.


Sunday, December 21, 2025

Muslim Conference to respond

 

My previous post on the education system and other issues has been viewed by thousands, and I'm grateful to all of them. Some friends have criticized it, and I'm thankful to them as well, respecting their opinions. However, criticism alone isn't enough; there might be mistakes on my part, and perhaps there are. Instead of criticism or insults, a positive and well-reasoned discussion can solve many problems. I hope we learn to respect differing opinions and solve issues through discussion.


In my previous article, I touched upon a controversial issue related to the Kashmir problem and Gen. Pervez Musharraf, the former Army Chief and President of Pakistan, known as the "hero of Kashmir." I had expressed my views on the Kashmir issue 23 years ago under pseudonyms because expressing opinions on Kashmir was sensitive back then.


I'm sharing a 23-year-old article of mine, published under different names, including my real name in some international editions. This was my last article on Kashmir due to an unspoken commitment. After its publication, things happened, and I stopped writing on Kashmir.


The article was about the "Chenab Formula" (December 2003), a potential solution to the Kashmir issue. I'm asking the All Jammu and Kashmir Muslim Conference friends to read the second paragraph carefully. If a movement was possible back then, there's something in it. I'm asking Sardar Atiq Khan and Usman Atiq to look into the Chenab Formula and the 2003 newspapers, and the Mujahid-e-Awal's views on UN resolutions.


Instead of just slogans, focus on research and prove my 23-year-old article wrong. I'm suggesting the "Movement for Jammu and Kashmir Province" to make the existing Azad Kashmir a part of Pakistan, at least. This way, you'll gain rewards and revive your politics.


Those who've been shouting "Kashmir's accession to Pakistan" for 70 years, if they oppose it now, they'll be hypocrites and traitors. I'll be sharing more about the 2005 earthquake relief efforts and government/bureaucracy's response soon.

Bitter Truth


 نظام تعلیم اور چنددیگر ایشوزپر میری گزشتہ پوسٹ جو ہزاروں افراد نے ملاحظہ فرمائی۔۔۔میں ان تمام کاشکر گزار ہوں۔۔چند دوستوں نے تنقید کی بھی میں ان کابھی شکرگزار ہوں اور ان کی رائے کااحترام کرتا ہوں۔۔۔لیکن صرف تنقید کافی نہیں ہوتی۔۔۔غلط میں بھی ہوسکتا ہوں اور شاید ہوں بھی۔۔۔لیکن تنقید یا گالی کے بجائے ایک مثبت اور مدلل بحث بہت سے مسائل کا حل بن سکتی ہے، مج



ھے امید ہے کہ ہم جلد ہی اختلاف رائے کا احترام اور بحث ومباحثہ کے ذریعہ مسائل کا حق سیکھ جائیں گے۔

میں نے گزشتہ تحریر میں ایک متنازعہ ایشو اشارتاً چھیڑدیاتھا، جس میں محسن کشمیر اور مسلح افواج کے فخر سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کاذکر تھا۔اور اس اشارے کا تعلق مسئلہ کشمیر سے تھا۔۔۔۔میں آج سے 23 سال قبل مسئلہ کشمیر پر کھل پر اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا لیکن فرضی ناموں سے۔۔۔تب کشمیر ایشو پردل کی بات کااظہار بڑے بڑوں کے پاجامے خراب کردیتا تھا۔۔۔کیونکہ جہاد کشمیر زوروں پرتھا۔۔۔اور صرف پرنٹ میڈیا ہی وجود رکھتا تھا۔۔۔۔تب کے پرنٹ میڈیا کی طاقت کاانداز ہ شایدآجآپ نہ جن سکیں۔۔۔۔۔۔۔

اسی تسلسل میں 23 قبل کا ایک کالم جو اکثر اخباروں میں ابن رشید یا دیگر کسی فرضی نام سے چھپا لیکن چند قومی اخبارات اور انٹرنیشنل ایڈیشنزمیں میرے اصل نام سے چھاپ دیا گیا۔۔۔اس سے قبل میں مسئلہ کشمیر پر تواتر سے لکھتارہتا تھا۔۔۔ غیرتحریری کمٹمنٹ کے تحت مسئلہ کشمیر پریہ میری آخری تحریر تھی۔۔۔۔اس کے منظر عام پر آنے کے بعد جوکچھ ہوا بس آپ کیلئے اتنا اشارہ کافی ہے کہ اگلے ہی روز میں جس صحافتی ادارے سے منسلک تھا کے منیجنگ ایڈیٹر جناب دلپذیر عباسی مرحوم (اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں) بدحواسی کے عالم میں مجھے ملے اور بس اتنا کہا کہ " ڈار صاحب مرائی چھڑیا نے، اچانک فوتیگی ہوگئی ہے اور مجھے فوریمنہاسہ جانا ہے۔۔۔اور وہ عازم منہاسہ ہوئے۔۔۔۔ میرے مرحوم بڑے بھائی نے اپنے گاؤں کی جانب عازم سفر ہونے کا مشورہ دیا۔۔۔(۔۔۔مجھے ہمیشہ فخررہے گا کہ دلپذیر عباسی جیسا اپنے زمانہ کا شہنشاہ مجھ ناچیز سے دلی محبت اور احترام کارشتہ رکھتا تھا۔۔۔جس کی وجہ صرف اور صرف میری ٹوٹی پھوٹی چند لائنیں ہوتی تھیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابن رشید یا دیگر کچھ ناموں کے پیچھے کون چھپا ہے)۔۔۔ لیکن میں گاؤں تو نہیں گیا، بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے فخر ہے اس وقت  طاقتور پالیسی سازوں سے پالیسی کے ایک حساس نقطہ پر اپنا موقف منوانے اور شفٹ میں کامیاب ہوا لیکن اس کے بعد رضاکارانہ طور پرکشمیر ایشو پر کبھی نہیں لکھا کیونکہ یہ میرامینڈیٹ نہیں تھا۔(یہ تحریر جنرل پرویزمشرف کے " چناب فارمولہ " سے متعلق تھی اور دسمبر 2003وہ وقت تھا جب یہ فارمولہ فائنلائیزہورہاتھااورکاغذوں اور بیک ڈور چینلزکی حد تک۔۔۔2004 میں یہ چارنکاتی فارمولہ فائنل ہوا۔۔۔لیکن بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے۔۔۔یہ مسئلہ کشمیر کا مبنی بر حقائق بہترین حل تھا۔۔۔غالباً 2007 میں اندرونی دباؤ کے تحت بھارت اور پاکستان دونوں نے اس فارمولہ پر مزید ڈپلومیسی ترک کردی تھی)

اگرچہ میرا ریکارڈ گم یا چوری ہوتا رہتا ہے۔۔۔۔یہ 23سال پرانی تحریر کہیں بہت دور سے منگوائی تاکہ۔۔۔۔"سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے "۔۔۔ کیونکہ حالات کچھ ٹھیک نہیں آج کل میرے۔

میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھیوں سے گزارش کروں گاکہ میرے کالم کا دوسراپیراا ضرور پڑھیں۔۔۔غور سے پڑھیں۔۔۔اور ان لائنوں پر23 سال قبل اگرایک بڑی  Movementہوسکتی ہے تو ضرور ان میں کوئی خاص بات ہوئی ہوگی اگرچہ لکھنے والا کوئی خاص نہیں بلکہ ایک عام سا چرسی تھا۔۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ فارمولہ کے چار نکات لکھنے سے آج 23 سال بعد میں ڈر رہا ہوں۔۔۔۔اس وقت نہیں ڈرا تھا جب سب ڈرا رہے تھے۔۔۔۔لیکن آج ڈر لگتاہے۔۔۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں کہ۔۔۔۔غلطی معاف۔۔۔ہوش میں جب آئے  جب آئے  تو دوستی سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔مسلم کانفرنس کے محترم دوستوں کے علاوہ فرزند مجاہد اول سردار عتیق خان اور فرزند، فرزند مجاہداول عثمان عتیق صاحب سے مخاطب ہونے کی جسارت بلکہ گستاخی کرنے جارہا ہوں کہ بمہربانی چناب فارمولہ اور دسمبر 2003 کے اخبارات کا ریکارڈ ضرور ملاحظہ فرمائیں اور مجاہد اول کی رائے تب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں کیاتھی۔۔۔۔صرف نعرے لگانے اور عوام کو باسی سوداسلف بیچنے سے کام اب نہیں چلنے والاکیونکہ عوام اب باشعوراور آپ کی مفاداتی سیاست کو کو مسترد کرچکی ہے۔۔۔۔تھوڑی سے مجاہد اول کی کمائی حلال کریں اور ریسرچ پر توجہ دے کر میری 23سال قبل لکھی جانے والی تحریر کو جھوٹا ثابت کریں۔۔۔۔مہربانی ہوگی آپ کی وگرنہ آپ کے کارکن تو اسے سچ ہی سمجھیں گے۔۔۔۔۔ تقسیم کشمیر کی بات تو میں نہیں کرتا لیکن اتنا ضرور کہوں گاکہ کم از کم " آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس "کے دوستوں کو۔۔۔جن کی تیسری تسل "الحاق پاکستان " کا نعرہ بیچ کر کمائی کررہی ہے اور آنے والی سات نسلوں کا مستقبل بھیسنوار چکی ہے پر فرض ہے کہ وہ فوری طور "تحریک صوبہ جموں وکشمیر " شروع کریں اورجو علاقہ ہمارے پاس ہے، کم از کم اسے تو پاکستان کاحصہ بنا کر "الحاق پاکستان "کے نعرے کا کچھ تو بھرم رکھیں۔۔۔یقینا اس سے انہیں ثواب داریں بھی حاصل ہوگا اور مری ہوئی سیاست بھی زندہ ہو جائے گی۔۔۔۔وگرنہ۔۔۔آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔۔جب آپ موجودہ آزادکشمیر کوالحاق پاکستان کی پہلی قسط کے تحت صوبہ بنادو گے تو پھر آرام سے ہم بقیہ حصہ کا الحاق بھی پاکستان سے کریں گے۔۔۔۔یار یہ تو بتاؤ کہ ہوا یا خلا میں بیٹھ کر کیسیتم الحاق کرو گے۔۔۔۔موقع سے فائدہ اٹھاؤ دوستو۔۔۔۔۔۔وگرنہ اہل وفاکی نظر نہ صرف تم  حقیر ہی رہو گے۔۔۔۔۔بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے غدار بھی ایک وقت آئے گا تم ہی ٹھہرائے جاؤ گے۔۔۔۔ایڈوانس بتا رہا ہوں۔۔۔۔میری نظر میں 70 سال الحاق پاکستان کے نعرے گانے والے اگر آزادکشمیر کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کریں گے تو وہ بدترین منافق اور غدار ہوں گے۔۔۔۔۔راکے ایجنٹوں سے بھی زیادہ خطرناک۔۔۔کشمیریوں کے خون کے پیاسے۔۔۔۔۔اور اہل وفا تب ان سے الحاق کے نام پر اربوں کی جائیدادوں کا حساب لینے میں بھی حق بجانب ہوں گے۔۔۔۔۔۔

مجھے امید ہے کہ" آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس" نامی سیاسی جماعت۔۔۔۔جلداز جلد"صوبہ جموں وکشمیر "کی تحریک شروع کرے گی---- اور فرزند مجاہداول اس کی قیادت کریں گے کیونکہ مجاہد اول تو آج سے 23 سال قبل اس وقت جب چناب فارمولہ سامنے بھی نہیں آیا تھا اس کی حمایت کرچکے تھے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو فرسودہ قرار دے چکے تھے۔۔۔اگر مجاہد اول اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ناقابل عمل قرار دے چکے تھے تو تم کسی باغ کی مولی ہو۔۔۔۔(تب تقسیم کشمیر کا نام تو کسی نہیں لیا تھا لیکن چناب کشمیراسی کے گرد گھومتا تھا جس پر اعلی پالیسی سازوں اوراعلی دماغوں نے کام کیاتھا اور مجاہد اول نے بھی تقسیم کا نام لئے بغیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ناقابل عمل قرار دیاتھا اور جنرل پرویزمشرف کی حمایت کی تھی)

دوستو!کشمیر ایشو پر آخری تحریر کے ساتھ خدا حافظ۔۔۔۔۔اورآئندہ چند روز میں 2005 کے زلزلہ کے بعد جوکچھ ہوا۔۔۔۔ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا ریلیف اور ریسکیو آپریشن اور دوسری جانب۔۔۔ہماری حکومت اور بیوروکریسی کا ننگا ناچ۔۔۔  کچھ یادیں جو ضمیرپر آج تک بوجھ ہیں آپ سے شیئر کروں گا۔۔۔کیونکہ میں UN کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف اینڈریکسیوآپریشن کی مانیٹرنگ میں Involve رہا ہوں اور برائے راست پاکستان میں UN چیفکی سپرویژن میں مانیٹرنگ کا موثر اور مقدس فریضہ سرانجام دے چکا ہوں۔۔۔اللہ کے فضل سے لاکھوں متاثرین اور IDPs کے یواین چارٹر کے تحت حاصل شدہ حقوق کا تحفظ کیا کیونکہ حکومت اور سسٹم مجبور تھا اس وقت کہ یواین فنڈنگ اگر ہورہی تھی تو بنیادی انسانی حقوق کا احترام ضروری تھا۔۔۔۔وگرنہ فنڈنگ بند مطلب بند ہوجاتی۔۔۔۔۔اور میں عینی گواہ ہوں کہ۔۔۔ہمارے جوکرز بیوروکریٹس کی غیرسنجیدگی، نالائقی اور اچھل کود کے باعث کروڑروں ڈالر کی فنڈنگ بند یا دیگر ممالک شفٹ ہوئی۔۔۔۔کیونکہ اس وقت کے بڑے بڑے اعلی عہدیداروں کو۔۔۔ای میل۔۔۔کامطلب تک نہیں پتا تھا۔۔۔اور گورے ای میل۔۔۔۔کے بغیر چلتے نہیں تھے۔۔۔۔۔اور کچھ جوکر ہمیں کہتے تھے کہ ہماری طرف سے بھی اپنی گوری کو ای میل کردینا۔۔۔۔۔کیونکہ ہمیں ای میل، شی میل کا کچھ پتا نہیں۔۔۔ان جوکرز کی دلچسپی صرف اور صرف گوریوں پر ٹھرک جھاڑنے کی حد تک ہوتی تھی متاثرین اور فنڈنگ جائے بھاڑ میں کیونکہ اس میں سے انہیں کمیشن ملنا نہیں تھا جبکہ دوسری جانب وہ تو حکومت سے پوری مراعات وصول کر رہے تھے۔۔۔۔ میٹنگز برخواست ہوجایاکرتی تھیں۔۔۔۔تو ایسے کھوتوں کا رویہ دیکھ کر کس نے کیا فنڈنگ کرنی تھی۔۔۔۔میں نے اس وقت یواین کے ٹا پ لیول کے ایمرجنسی اور ریلیف ایکسپرٹس کو متاثرین زلزلہ، شہداء، آئی ڈی پیز، معذور افراد اور بیواؤں۔۔۔اور دوسری جانب۔۔۔جوکرز کی اچھل کود اور غیر سنجیدگی پر روتے تک دیکھا کیونکہ میں ان کے بہت قریب تھا اور وہ میری رپورٹنگ پر مکمل انحصار کرتے تھے۔۔۔مجھے فخر ہے کہمجھ سمیت دیگر دو 2 دوستوں کی ٹیم نے پس پردہ رہ کر لاکھوں آئی ڈی پیزکے حقوق کے تحفظ اوربحالی و آباد کاری کیلئے دن رات کام کیا اور یواین فنڈنگ میں خردبرد کرنے والے بہت سے مگرمچھوں کے خواب ادھورے کے ادھورے ہی رہے۔۔۔اور کوئی حرام خورجان بھینہ سکا کہ ان کے پیٹ پر لات کون مار رہا ہے۔۔۔۔میں اس دور کے چند گمنام ہیروزکے نام اس امید کے ساتھ سامنے لاؤں گے کہ کم از کم حکومت ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اگر ان میں سے کچھ زندہ ہوں تو۔۔۔ملک بلا کرکسی چھوٹے سے ایوارڈ سے ہی نوازدے، کیونکہ انہوں نے تو ہمارے ساتھ ہمارے لوگوں کیلئے اپنی عیش و عشرت چھوڑ کر۔۔۔اپنی چھٹیاں تک قربان کر کے۔۔۔۔مزدوروں کی طرح دن رات  کام کیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(سی ایم او اور ایراء، سیراء والے یقینا بھول گئے ہوں گے لیکن ان گوروں کو ہمارے کیمپوں اور متاثرین کے نام تک آج بھی زبانی یاد ہیں جن کے ساتھ انہوں نے مزدوروں کی طرح کا م کیاتھا۔۔۔میں نے انسانیت ان سے سیکھی)

فقیرانہ آئے صدا کرچلے 



Saturday, December 6, 2025

The Pearl of AJK Beaursucracy.

 


Syed Shahid Mohiuddin Qadri is a senior and experienced government secretary in Azad Jammu and Kashmir. He is known for his honesty, good administrative skills, and positive attitude, and never makes decisions under political pressure, but rather based on merit and a national outlook. He is a valuable asset to the government.

Despite his immense capabilities, unfortunately, the government has continuously overlooked him for the past ten years, giving him insignificant postings. If the new government of Azad Kashmir truly wants reforms, it must value officers like Syed Shahid Mohiuddin Qadri and make them part of the policymaking and reform process." 

It is worth noting that a report from April 2023 mentioned Syed Shahid Mohiuddin Qadri as the Secretary of Local Government and Rural Development, actively participating in high-level meetings to review development programs.

"Syed Shahid Mohiuddin Qadri is the only officer whose honesty, integrity, national thinking, and impartial approach can be vouched for. Especially in the Civil Secretariat where I spent over twenty-six years of my life, during this long period, Shahid Mohiuddin Qadri is the only person whose honesty and integrity I can swear by. He is my first mentor. It is another matter that I haven't met him for the last 12 years because the relationship of his sternness and respect were two such contradictory realities that kept me away from him.

I hope the new government, especially Prime Minister Faisal Mumtaz Rathore, and other policymakers recognize Mr. Shahid's abilities and will give him an important posting where he can play a key and decisive role in bringing the government's reform agenda, if any.

Thnkx

Explanation


 محترم ریاض چغتائی صاحب نے میری گزشتہ پوسٹ جو شاہد محی الدین قادری صاحب، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، چیئرمین ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے بارے میں تھی پر کمنٹ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا وہ اشرافیہ کی مراعات کے خاتمہ کیلئے حکومت کو کوئی پلان دے سکتے ہیں۔علاوہ ازیں کچھ لوگوں نے مجھے چاپلوس، جھولی چک اور اس طرح کے طعنوں سے نوازا۔۔۔میں آزادی اظہار رائے کا قائل ہیں آپ کی رائے کااحترام ہے تاہم تفصیلی وضاحت بھی پیش خدمت ہے۔


میں شاہد صاحب کو 27 سال سے جانتا ہوں۔میں سروس میں آنے سے پہلے نسیم حجازی اور مولانا مودودی کے لٹریچر سے متاثر تھا۔منزل کوئی او ر تھی لیکن حالات سرکاری نوکر بنا گئے۔ میرے پہلے استاد ہیں اور پہلی پوسٹنگ ان کے ساتھ ہوئی۔محکمہ قانون میں فائلوں میں شاہدصاحب صاحب اور فرحت علی میر صاحب کے نوٹ پڑھ پر لکھنا سیکھا۔دونوں آفیسرز کے نوٹس میں قومی سوچ، ایمانداری اور دیانتداری کی جھلک ہوا کرتی تھی۔شاہد صاحب ہمیشہ سے کرپشن، کرپٹ مافیا اور ہیرپھیر کرنے والے والوں کے دشمن ہیں۔نمازی اور پرہیز گارہیں۔کچھ کرناچاہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ ہویا کرپٹ مافیا کو لگام دینا۔شاہد صاحب سے بڑھ کر کوئی چائس موجودہ سسٹم میں موجود نہیں۔دباؤ اور پریشر کے آگے ڈٹنا بھی اولین میں نے شاہد صاحب سے سیکھا۔اگر یہ کمپرومائیزکرنے والے ہوتے تو 15دن جیل کی ہوا نہ کھاتے۔کیا آج تک کوئی حاضرسروس سیکرٹری جیل گیا۔۔۔۔؟اگرانہیں کوئی بھی ٹارگٹ دیاجائے لیکن فری ہینڈکے ساتھ تو 1000فیصد رزلٹ کی مجھے توقع ہے۔

کچھ لوگ مجھے چاپلوسی یا کسی مفاد کے تابع اس تحریر کا طعنہ دے رہے ہیں۔میں ستائیس سال سے مختلف فرضی ناموں سے لکھتارہا ہوں۔ کبھی کسی کی تعریف نہیں کی۔گالی کی زبان میں لکھا، نتائج بھگتنے لیکن باز نہیں آیااور آج تک ایک پیسہ تک لیا بہت کچھ ٹھکرایا۔لیکن پہلی تحریر ہے جو کسی کے حق میں لکھی۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ جب شاہد صاحب سیکرٹری سروسز تھے تب سے آج تک میں انہیں ملا تک نہیں۔ باوجود اس کے، ان کے سیکرٹری سروسز کے دور سے آج تک کئی مشکلات سے گزرا۔کھبی کسی Favor کیلئے ان کے پاس نہیں گیا۔حالانکہ میں جانتا ہوں ان کی کال تو بڑی بات ایک Text Message بھی میری مشکلات کم کرسکتا تھااوران کی محبت کا تقاضا تھا کہ کبھی بھی کسی بھی وقت وہ مجھے مایوس نہیں کرتے یہ اور بات ہے ڈانتے ضرور اسی لئے ان کے پاس نہیں گیا۔

اب چونکہ میں سروس میں نہیں رہا۔میرے دوستوں نے 6سال کی محنت کے بعد مجھے فارغ کروادیا۔ایک قرض تھاکسی کی محبت کااور 27 سال میں ایک ہی محبت ملی، جو اتاردیا سسٹم بانجھ نہیں یہاں ہیرے بھی موجود ہیں لیکن ان کی قدر کی ضرورت ہے۔ شکریہ

The Pearl of AJK Beauraucracy

سیدشاہد محی الدین قادری آزاد جموں و کشمیر کے سینئر اور تجربہ کار سیکرٹری حکومت ہیں ہیں۔ اپنی ایمانداری، اچھی انتظامی صلاحیتوں اور مثبت رویے کے لیے جانے جاتے ہیں اور کبھی بھی سیاسی دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرتے بلکہ میرٹ اور ایک قومی سوچ کے تحت فیصلے کرتے ہیں اوروہ حکومت کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔موصوف کی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود بدقسمتی سے گزشتہ دس سالوں سے حکومت نے انہیں مسلسل نظراندازکررکھا ہے اور غیر اہم پوسٹنگ کی جارہی ہے۔آزادکشمیر کی نئی حکومت اگر واقعی اصلاحات چاہتی ہے توشاید محی الدین صاحب جیسے آفیسرز کی قدر کرنا ہوگی اور انہیں پالیسی سازی اور اصلاحاتی عمل کاحصہ بناناہوگا۔
سید شاہد محی الدین قادری وہ واحد آفیسر ہیں جن کی ایمانداری، دیانتداری ، قومی سوچ اورغیرجانبدارانہ اپروچ کی قسم کھائی جاسکتی ہے۔خصوصا سول سیکرٹریٹ جہاں میں اپنی زندگی کے چھبیس سال سے زائد عرصہ گزار،اس طویل عرصہ میں صرف شاہد محی الدین قادری ہی وہ واحد شخصیت ہیں جن کی ایمانداری اور دیانتداری کی میں قسم کھا سکتا ہوں۔ میرے اولین استاد ہیں۔یہ اور بات ہے کہ گزشتہ 12 سال سے میں ان سے ملا تک نہیں کیونکہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ اور احترام کارشتہ دو ایسی متضاد حقیقتیں تھیں جو مجھے ان سے دور کر گئیں۔
مجھے امید ہے کہ نئی حکومت خصوصا وزیراعظم فیصل ممتاز راٹئھور اور دیگر پالیسی ساز شاہد صاحب کی صلاحیتیوں کا اعتراف کرتے ہیں انہیں اہم پوسٹنگ دیں گے جو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈا اگر کوئی ہو تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کریں 

Saturday, November 22, 2025

Ahsan Dar Unveils Corrouption in AJK


 مظفرآباد :سیکرٹریٹ ایکشن کمیٹی آزادکشمیر کے سابق چیئرمین احسن رشید ڈار نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ ریاستی بیوروکریسی کی عیاشیوں اورغنڈہ گردی کا نوٹس لیا جائے، ریاستی وسائل کی لوٹ مارکے پیچھے سیاسی قیادت کے بجائے ریاستی بیوروکریسی کاہاتھ ہے جبکہ بیوروکریسی نے ایک منظم سازش اور منصوبہ بندی کے تحت عوامی غیض و غضب کارخ سیاسی قیادت  کی جانب موڑ رکھا ہے۔ اپنے ایک بیان میں سابق یونین لیڈر اور کالم نگار احسن رشید ڈار نے  کہا ہے کہ اگر بیورروکریسی کی عیاشیوں اورضمیرفروشی کو منظم عام پر لایاجائے تو سیاسی قیادت ان کے سامنے معصوم نظر آئے گی۔ ریاست کے تمام مسائل کی جڑ بیوروکریسی ہے۔ جو سر سے لیکر پاؤں تک کرپشن میں لتھڑی ہوئی ہے۔ ایک سیکرٹری اور سربراہ محکمہ کروڑروں روپے مالیت کی متعدد گاڑیاں استعمال کرتاہے جبکہ گھر میں دفتر کے چپڑاسیوں کی فوج ڈیوٹی پر لگا رکھی ہے۔ بے ضمیر بیوروکریسی روزانہ سینکڑوں عوام کو خاموشی سے قتل کرتی ہے۔ میرٹ کا سرعام قتل کیا جاتا ہے۔ دفتر کی سٹیشنری تک چھپا کر گھر لے جاتے ہیں اور ہر کام کیلئے کمیشن ہے۔یہاں تک سکیل 17 کے آفیسرز تک نے اسلام آباد کی پوش رہائشی سکیموں بحریہ ٹاؤن، بحریہ انکلیو،ڈیفینس میں اربوں روپے کی پراپرٹی بنا رکھی ہے۔ صرف کشمیر ہاؤس کا ایک سکیل 17 کا ملازم بحریہ انکلیو اسلام آباد میں پلازیوں کا مالک ہے جن کی مالیت کروڑوں میں ہے۔ سکیل 17 کی تنخواہ میں ایک ملازم کروڑوں روپے کی پراپرٹی کیسے بناسکتاہے حکومت کو  اس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر کے عوام کی اصل دشمن،کرپٹ اور ضمیر فروش بیوروکریسی کو لگام دینے کیلئے کردار ادا کیا جائے اور سیاسی قیادت کو بخشا جائے کیونکہ اصل مجرم بیوررکریسی ہے جس دانستہ سیاسی قیادت کوبدنام کر رہی ہے۔

Wednesday, November 12, 2025

Ahsan Dar Unveils Corrouption

 مظفرآباد( )سیکرٹریٹ ایکشن کمیٹی آزادکشمیر کے سابق چیئرمین احسن رشید ڈار نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ ریاستی بیوروکریسی کی عیاشیوں اورغنڈہ گردی کا نوٹس لیا جائے، ریاستی وسائل کی لوٹ مارکے پیچھے سیاسی قیادت کے بجائے ریاستی بیوروکریسی کاہاتھ ہے جبکہ بیوروکریسی نے ایک منظم سازش اور منصوبہ بندی کے تحت عوامی غیض و غضب کارخ سیاسی قیادت کی جانب موڑ رکھا ہے۔ اپنے ایک بیان میں سابق یونین لیڈر اور کالم نگار احسن رشید ڈار نے کہا ہے کہ اگر بیورروکریسی کی عیاشیوں اورضمیرفروشی کو منظم عام پر لایاجائے تو سیاسی قیادت ان کے سامنے معصوم نظر آئے گی۔ ریاست کے تمام مسائل کی جڑ بیوروکریسی ہے۔ جو سر سے لیکر پاؤں تک کرپشن میں لتھڑی ہوئی ہے۔ ایک سیکرٹری اور سربراہ محکمہ کروڑروں روپے مالیت کی متعدد گاڑیاں استعمال کرتاہے جبکہ گھر میں دفتر کے چپڑاسیوں کی فوج ڈیوٹی پر لگا رکھی ہے۔ بے ضمیر بیوروکریسی روزانہ سینکڑوں عوام کو خاموشی سے قتل کرتی ہے۔ میرٹ کا سرعام قتل کیا جاتا ہے۔ دفتر کی سٹیشنری تک چھپا کر گھر لے جاتے ہیں اور ہر کام کیلئے کمیشن ہے۔یہاں تک سکیل 17 کے آفیسرز تک نے اسلام آباد کی پوش رہائشی سکیموں بحریہ ٹاؤن، بحریہ انکلیو،ڈیفینس میں اربوں روپے کی پراپرٹی بنا رکھی ہے۔ صرف کشمیر ہاؤس کا ایک سکیل 17 کا ملازم بحریہ انکلیو اسلام آباد میں پلازیوں کا مالک ہے جن کی مالیت کروڑوں میں ہے۔ سکیل 17 کی تنخواہ میں ایک ملازم کروڑوں روپے کی پراپرٹی کیسے بناسکتاہے حکومت کو اس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر کے عوام کی اصل دشمن،کرپٹ اور ضمیر فروش بیوروکریسی کو لگام دینے کیلئے کردار ادا کیا جائے اور سیاسی قیادت کو بخشا جائے کیونکہ اصل مجرم بیوررکریسی ہے جس دانستہ سیاسی قیادت کوبدنام کر رہی ہے۔