انہونی۔۔۔۔اور دیوار برلن ٹوٹ گئی
سرخ اور سبز۔۔۔دو رنگ نہیں۔۔۔دو نظریات ہیں (لفٹ اینڈرائیٹ)۔۔۔آگ اور خون۔۔۔آزادکشمیر کی سیاست کبھی ان دو نظریات کی چکی میں پستی رہتی تھی۔۔۔کئی جانیں ضائع ہوئیں۔۔۔تشدد کاراستہ اپنایا گیا، حاصل ضرب صفر۔۔لیکن تشدد نے الٹا اثر کیاجس کودبانے کی کوشش کی گئی وہ اتنی ہی قوت سے ابھرا اور آج۔۔۔سرخ۔۔آزادکشمیر کی سیاست کی افق پر چھا چکا ہے۔۔۔۔مجاہد اول کے غالباًتین دھائیاں قبل الفاظ (امان اللہ خا ن کے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کال کوکچلنے کی تمام کوششوں کے ناکام ہونے پر) آزادکشمیر میں اصل طاقتیں صرف دو ہی ہیں۔۔۔۔۔سرخ اور سبز(واضح رہے سبزکی نمائندگی کل بھی مسلم کانفرنس کرتی تھی اور آج بھی۔۔۔ سرخ کی جے کے این ایس ایف اور جے کے ایل ایف کل بھی اور آج بھی)۔۔۔حقیقت کا برملا اعتراف تھا۔۔مجاہداول کی دور اندیشی کے مخالفین تک قائل ہیں۔۔۔لیکن اس برملا اعتراف کے بعد بھی ً دبانے ً کی پالیسی ترک نہیں کی گئی اورکہیں نہ کہیں طاقت کااستعمال جاری رہا۔۔۔بہرحال نظریات کا یہ ٹکراؤ کسی پالیسی کے تحت روک دیاگیاتو رزلٹ یہ نکلا کہ آزادکشمیر کی سیاست قومی ایشوز سے ہٹ کر کھمبا، ٹوٹی، اقرباء پروری،کرپشن، میرٹ کی پامالیوں اور لوٹا کریسی کی حد تک محدود ہو کر رہی گئی جس کے نتائج اب پوری قوم بھگت رہی ہے۔۔۔۔۔اور عوامی ایکشن کمیٹی شاید۔۔۔ہمارے بڑوں کے انہی اعمال کا نتیجہ ہے۔۔۔یہ ایک ایسا کمبل ہے دوستو!جس سے تم لاکھ چاہو جان چھڑانے کی اب چھوٹنے والی نہیں۔
یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں۔۔۔کوئی عام تصویر نہیں۔۔۔ایک تاریخ ہے۔۔۔دیوار برلن ٹوٹ سکتی ہے۔۔۔۔ایک جانب سرخ مفلر میں سید اکابر شاہ اور دوسری جانب سردار عثمان عتیق۔۔۔۔آزادکشمیر کی کھوکھلی سیاست اورلوٹاکریسی، ضمیر فروشی میں لتھڑی ہوئی سیاسی قیادت کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ۔۔۔۔۔۔۔دونوں اپنے نظریات کی معراج پر۔۔۔۔۔صحیح اور غلط کا سوال ہی نہیں۔۔۔۔دنیا کدھر جارہی ہے۔۔۔کوئی پروا نہیں۔۔۔۔ایک کی سیاست ختم اور دوسرے کا مستقبل تاریک۔۔۔۔لیکن دونوں نظریات کے علمبردار مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ۔۔۔پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا اور کتنا مزید بہے گا۔بقول شاعر
زمانہ معترف ہے ہمارے استقامت کا
نہ ہم سے قافلہ چھوٹانہ ہم نے رہنما بدلا
راہ الفت میں گو ہم پر بڑا مشکل مقام آیا
نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راستہ بدلا
اگر سید اکابر حسین شاہ اور سردار عثمان عتیق ایک دوسرے کے نظریات کا احترم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے گلے مل سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے سچے یا جھوٹے کسی بھی قسم کے خداکو گالی نہ دینے کا عزم کرسکتے ہیں تو باقی پھر کیا بچتا ہے۔۔۔بس اس سلسلہ کو وسیع کیجئے۔۔۔۔نتائج دیکھنا۔۔۔جنہیں تم غدار کہتے۔۔۔اور سمجھتے ہو۔۔۔خود سے بڑھ کر وفادار اور محب وطن پاؤ گے۔۔۔کوئی راکٹ سائنس نہیں۔۔۔۔بس منجھی ٹھوکنا چھوڑو۔۔۔۔ان کی بات سنو۔۔۔گلے لگاؤ۔۔۔۔پھر کرشمہ دیکھنا۔۔۔
آزادکشمیر کے باشعور عوام نے ارتقاء کاتاریخ سفر طے کرتے ہوئے۔۔۔لوٹوں، نظریات فروشوں اورسیاسی مداریوں۔۔۔کو اب اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیا ہے۔۔۔۔۔تو میری دانست میں دو حقیقی خالص سیاسی و نظریاتی تحریکوں کو ڈائیلاگ کا راستہ اپنا کر۔۔۔انتہا پسندی کو ترک کر کے۔۔۔کچھ لو اور کچھ دو۔۔۔۔جیؤاور جینے۔۔۔۔کے تحت اس خلاء کو پر کرنے کیلئے آگے آنا چاہیے۔۔۔۔کشمیر کافیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔۔۔۔۔اور رائے شماری میں ہر کشمیری اپنی رائے دینے میں آزاد ہوگا۔۔۔۔ہنوز دہلی دور است۔۔۔۔۔ پھر لڑائی کیسی۔۔۔۔دہلی پہنچنے تک صرف اتنی سی بات تسلیم کرنی ہے اور خطہ سے غربت، جہالت،بے روزگاری، سیاسی آزادی، معاشی ترقی، نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور برادری ازم کے بت پاش پاش کرنے کیلئے جدوجہد، ۔۔۔۔ایک حقیقی سیاسی قیادت۔۔۔۔دشمن کی تمام سازشیں خود ناکام ہو جائیں گی۔۔۔۔ایک چارٹر آف انڈرسٹینڈنگ۔۔۔۔اور بس۔۔۔
فقیرانہ آئے، صدا کرچلے
میاں خوش رہو،ہم دعا کر چلے
#PMLaptopScheme2025 #AJKRightsmovement #ajknews #army #AJKGovernment #PakistanZindabad #AJKPolice #ADIALA #mareeffoundation #Pakistan

No comments:
Post a Comment