Sunday, February 22, 2026

M. Tahir Khokhar the powetful voice of Overseas Kashmir

 طاہرکھوکھر۔۔۔۔اوورسیز کشمیریوں کی طاقتور آواز

خبر ہے کہ اوورسیزپاکستانیزفاؤنڈیشن 15، 16اور17فروری کو پی سی ہوٹل مظفرآباد میں اوورسیزکشمیریزکنونشن منعقد کرنے جارہی ہے۔جس کیلئے سینکڑوں شرکاء کی خفیہ فہرست مرتب کی جارہی ہے جو فاؤنڈیشن کے اخراجات پر مظفرآباد آئیں گے اور ٹرانسپورٹ، رہائش، دعوتوں وغیرہ پر کروڑوں روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔جبکہ حکومت آزادکشمیر بھی اس کنونشن کیلئے معاونت کررہی ہے اور ایک اعلی سطعی بااختیار Steering Group بھی تشکیل دیاگیاجس میں وفاقی حکومت کے نمائندگان کے علاوہ چیف سیکرٹری آزادکشمیر، سیکرٹری سروسز، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، سیکرٹری آبی وسائل و دیگر شامل ہیں۔ اس اعلی سطعی بااختیار کمیٹی کا مقصدکنونشن کو کامیاب بنانا ہے۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقریباً 2 ملین کشمیری اوورسیزجووطن عزیزکے زرمبادلہ کے سب سے بڑے کنٹری بیوٹر اور ہمارے بلا تنخواہ سفیر ہیں کیلئے حکومت پاکستان، آزادکشمیر یا او پی ایف فاؤنڈیشن نے ماضی میں کیا کیا کہ اس میں جو کمی پیشی رہ گئی ہے پر غور کرنے کیلئے کروڑوں روپے کے اخراجات سے کنونشن کیا جارہا ہے۔ جواب یقینا مایوس کن ہے۔مظفرآباد میں صر ف ایک او پی ایف سکول، جہاں چار پانچ کمروں میں تقریباً ایک ہزار کے قریب بچوں کو بھیڑبکریوں کی طرح ٹھونساگیا ہے کے علاوہ ویلفیئر کی کوئی سکیم یا منصوبہ موجود نہیں۔

میرپور میں 45سال قبل OPFنے اوورسیزکشمیریوں کیلئے ایک رہائشی سکیم/منصوبہ او پی ایف ہاؤسنگ سکیم کے نام سے شروع کیا۔۔۔جو آج تک کامیاب نہیں ہوسکااور آبادکاری یا Development شروع نہیں ہوسکی۔فاؤنڈیشن نے ایک جانب اوورسیزکشمیریوں کو جھانسادے کر اربوں روپے پلاٹوں کے نام پرحاصل کئے جبکہ دوسری جانب رہائشی سکیم کے ماسٹر پلان کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے فارم ہاؤسز غیر متعلقہ لوگوں کو بیچ ڈالے۔۔۔ماسٹر پلان کی مکمل خلاف ورزی کی گئی۔۔لینڈ مافیا کے ساتھ ساز باز کر کے اوورسیزکی اربووں روپے کی سرمایہ کاری ضائع کر دی گئی ہے اور یہ پراجیکٹ کرپشن کی عملی تصویربن چکا ہے، اس سکیم کی ناکامی اور کرپشن کے باعث اوورسیز مزید سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں۔

سابق وزیر حکومت، صدر پاسبان وطن پاکستان طاہرکھوکھرجو اوورسیزکشمیریوں کی مخص نشست پر آزادکشمیر کی قانون اسمبلی میں پانچ سال تک اوورسیز کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے اوورسیز کشمیریوں کے حقوق کیلئے مختلف فورمز پرآواز بلند کرتے رہے ہیں، اپنے ذاتی اخراجات سے اوورسیزکے مسائل کے سلسلہ میں یورپ و گلف کے دورہ جات بھی کرتے رہے ہیں، اوورسیزکے مسائل کی مسلسل نشاندہی کرتے رہے ہیں۔جن میں ان کی جائیدادوں پر قبضہ، سرمایہ کاری و دیگر سماجی مسائل بھی شامل ہیں۔ او پی ایف ہاؤسنگ سکیم میرپور کے حوالے سے طاہرکھوکھر گزشتہ دو تین ماہ سے مسلسل پرنٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے سکیم کی ناکامی، اوورسیز کے اربورں روپے ڈوبنے، کرپشن اور خرد برد کی نشاندہی کررہے ہیں۔لیکن فاؤنڈیشن ان مسائل کو ایڈریس کئے بغیر کروڑوں روپے کے اخراجات سے کنونشن منعقد کروانے جارہی ہے جس کا مقصد مسائل سے توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں نظر آ رہا۔

مناسب ہو گا کہ وفاقی حکومت صورت حال کا نوٹس لے اور سابق وزیرحکومت، اوورسیز کشمیریوں کے نمائندہ جو آج کل ایک قومی سطع کی سیاسی جماعت پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر بھی ہیں کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور کنونشن میں حقیقی اوورسیزاور ان کے نمائندوں کی مشاورت سے اوورسیزکشمیریوں کے مسائل، سرمایہ کاری اور دیگر سماجی مسائل، ویلفیئر کیلئے اقدامات کیلئے ٹھوس تجاویز مرتب کی جائیں۔امید ہے کہ وفاقی حکومت اور حکومت آزادکشمیراس صورت حال کا نوٹس لے گی۔ تاکہ کروڑوں روپے کے یہ اخراجات بھی ضائع نہ ہوں اور اوورسیزکشمیری جو ہمارے بلا تنخواہ سفیر ہیں کے مسائل بھی حل ہوں اور انہیں سرمایہ کاری پر راغب کر کے آزادکشمیر میں معاشی ترقی و بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ 


#PMLaptopScheme2025#AJKRightsmovement#AJKGovernment#AJKGovernment#PakistanZindabad#uk#kashmir#kashmirvalley

No comments:

Post a Comment