Sunday, December 21, 2025

Muslim Conference to respond

 

My previous post on the education system and other issues has been viewed by thousands, and I'm grateful to all of them. Some friends have criticized it, and I'm thankful to them as well, respecting their opinions. However, criticism alone isn't enough; there might be mistakes on my part, and perhaps there are. Instead of criticism or insults, a positive and well-reasoned discussion can solve many problems. I hope we learn to respect differing opinions and solve issues through discussion.


In my previous article, I touched upon a controversial issue related to the Kashmir problem and Gen. Pervez Musharraf, the former Army Chief and President of Pakistan, known as the "hero of Kashmir." I had expressed my views on the Kashmir issue 23 years ago under pseudonyms because expressing opinions on Kashmir was sensitive back then.


I'm sharing a 23-year-old article of mine, published under different names, including my real name in some international editions. This was my last article on Kashmir due to an unspoken commitment. After its publication, things happened, and I stopped writing on Kashmir.


The article was about the "Chenab Formula" (December 2003), a potential solution to the Kashmir issue. I'm asking the All Jammu and Kashmir Muslim Conference friends to read the second paragraph carefully. If a movement was possible back then, there's something in it. I'm asking Sardar Atiq Khan and Usman Atiq to look into the Chenab Formula and the 2003 newspapers, and the Mujahid-e-Awal's views on UN resolutions.


Instead of just slogans, focus on research and prove my 23-year-old article wrong. I'm suggesting the "Movement for Jammu and Kashmir Province" to make the existing Azad Kashmir a part of Pakistan, at least. This way, you'll gain rewards and revive your politics.


Those who've been shouting "Kashmir's accession to Pakistan" for 70 years, if they oppose it now, they'll be hypocrites and traitors. I'll be sharing more about the 2005 earthquake relief efforts and government/bureaucracy's response soon.

Bitter Truth


 نظام تعلیم اور چنددیگر ایشوزپر میری گزشتہ پوسٹ جو ہزاروں افراد نے ملاحظہ فرمائی۔۔۔میں ان تمام کاشکر گزار ہوں۔۔چند دوستوں نے تنقید کی بھی میں ان کابھی شکرگزار ہوں اور ان کی رائے کااحترام کرتا ہوں۔۔۔لیکن صرف تنقید کافی نہیں ہوتی۔۔۔غلط میں بھی ہوسکتا ہوں اور شاید ہوں بھی۔۔۔لیکن تنقید یا گالی کے بجائے ایک مثبت اور مدلل بحث بہت سے مسائل کا حل بن سکتی ہے، مج



ھے امید ہے کہ ہم جلد ہی اختلاف رائے کا احترام اور بحث ومباحثہ کے ذریعہ مسائل کا حق سیکھ جائیں گے۔

میں نے گزشتہ تحریر میں ایک متنازعہ ایشو اشارتاً چھیڑدیاتھا، جس میں محسن کشمیر اور مسلح افواج کے فخر سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کاذکر تھا۔اور اس اشارے کا تعلق مسئلہ کشمیر سے تھا۔۔۔۔میں آج سے 23 سال قبل مسئلہ کشمیر پر کھل پر اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا لیکن فرضی ناموں سے۔۔۔تب کشمیر ایشو پردل کی بات کااظہار بڑے بڑوں کے پاجامے خراب کردیتا تھا۔۔۔کیونکہ جہاد کشمیر زوروں پرتھا۔۔۔اور صرف پرنٹ میڈیا ہی وجود رکھتا تھا۔۔۔۔تب کے پرنٹ میڈیا کی طاقت کاانداز ہ شایدآجآپ نہ جن سکیں۔۔۔۔۔۔۔

اسی تسلسل میں 23 قبل کا ایک کالم جو اکثر اخباروں میں ابن رشید یا دیگر کسی فرضی نام سے چھپا لیکن چند قومی اخبارات اور انٹرنیشنل ایڈیشنزمیں میرے اصل نام سے چھاپ دیا گیا۔۔۔اس سے قبل میں مسئلہ کشمیر پر تواتر سے لکھتارہتا تھا۔۔۔ غیرتحریری کمٹمنٹ کے تحت مسئلہ کشمیر پریہ میری آخری تحریر تھی۔۔۔۔اس کے منظر عام پر آنے کے بعد جوکچھ ہوا بس آپ کیلئے اتنا اشارہ کافی ہے کہ اگلے ہی روز میں جس صحافتی ادارے سے منسلک تھا کے منیجنگ ایڈیٹر جناب دلپذیر عباسی مرحوم (اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں) بدحواسی کے عالم میں مجھے ملے اور بس اتنا کہا کہ " ڈار صاحب مرائی چھڑیا نے، اچانک فوتیگی ہوگئی ہے اور مجھے فوریمنہاسہ جانا ہے۔۔۔اور وہ عازم منہاسہ ہوئے۔۔۔۔ میرے مرحوم بڑے بھائی نے اپنے گاؤں کی جانب عازم سفر ہونے کا مشورہ دیا۔۔۔(۔۔۔مجھے ہمیشہ فخررہے گا کہ دلپذیر عباسی جیسا اپنے زمانہ کا شہنشاہ مجھ ناچیز سے دلی محبت اور احترام کارشتہ رکھتا تھا۔۔۔جس کی وجہ صرف اور صرف میری ٹوٹی پھوٹی چند لائنیں ہوتی تھیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابن رشید یا دیگر کچھ ناموں کے پیچھے کون چھپا ہے)۔۔۔ لیکن میں گاؤں تو نہیں گیا، بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے فخر ہے اس وقت  طاقتور پالیسی سازوں سے پالیسی کے ایک حساس نقطہ پر اپنا موقف منوانے اور شفٹ میں کامیاب ہوا لیکن اس کے بعد رضاکارانہ طور پرکشمیر ایشو پر کبھی نہیں لکھا کیونکہ یہ میرامینڈیٹ نہیں تھا۔(یہ تحریر جنرل پرویزمشرف کے " چناب فارمولہ " سے متعلق تھی اور دسمبر 2003وہ وقت تھا جب یہ فارمولہ فائنلائیزہورہاتھااورکاغذوں اور بیک ڈور چینلزکی حد تک۔۔۔2004 میں یہ چارنکاتی فارمولہ فائنل ہوا۔۔۔لیکن بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے۔۔۔یہ مسئلہ کشمیر کا مبنی بر حقائق بہترین حل تھا۔۔۔غالباً 2007 میں اندرونی دباؤ کے تحت بھارت اور پاکستان دونوں نے اس فارمولہ پر مزید ڈپلومیسی ترک کردی تھی)

اگرچہ میرا ریکارڈ گم یا چوری ہوتا رہتا ہے۔۔۔۔یہ 23سال پرانی تحریر کہیں بہت دور سے منگوائی تاکہ۔۔۔۔"سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے "۔۔۔ کیونکہ حالات کچھ ٹھیک نہیں آج کل میرے۔

میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھیوں سے گزارش کروں گاکہ میرے کالم کا دوسراپیراا ضرور پڑھیں۔۔۔غور سے پڑھیں۔۔۔اور ان لائنوں پر23 سال قبل اگرایک بڑی  Movementہوسکتی ہے تو ضرور ان میں کوئی خاص بات ہوئی ہوگی اگرچہ لکھنے والا کوئی خاص نہیں بلکہ ایک عام سا چرسی تھا۔۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ فارمولہ کے چار نکات لکھنے سے آج 23 سال بعد میں ڈر رہا ہوں۔۔۔۔اس وقت نہیں ڈرا تھا جب سب ڈرا رہے تھے۔۔۔۔لیکن آج ڈر لگتاہے۔۔۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں کہ۔۔۔۔غلطی معاف۔۔۔ہوش میں جب آئے  جب آئے  تو دوستی سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔مسلم کانفرنس کے محترم دوستوں کے علاوہ فرزند مجاہد اول سردار عتیق خان اور فرزند، فرزند مجاہداول عثمان عتیق صاحب سے مخاطب ہونے کی جسارت بلکہ گستاخی کرنے جارہا ہوں کہ بمہربانی چناب فارمولہ اور دسمبر 2003 کے اخبارات کا ریکارڈ ضرور ملاحظہ فرمائیں اور مجاہد اول کی رائے تب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں کیاتھی۔۔۔۔صرف نعرے لگانے اور عوام کو باسی سوداسلف بیچنے سے کام اب نہیں چلنے والاکیونکہ عوام اب باشعوراور آپ کی مفاداتی سیاست کو کو مسترد کرچکی ہے۔۔۔۔تھوڑی سے مجاہد اول کی کمائی حلال کریں اور ریسرچ پر توجہ دے کر میری 23سال قبل لکھی جانے والی تحریر کو جھوٹا ثابت کریں۔۔۔۔مہربانی ہوگی آپ کی وگرنہ آپ کے کارکن تو اسے سچ ہی سمجھیں گے۔۔۔۔۔ تقسیم کشمیر کی بات تو میں نہیں کرتا لیکن اتنا ضرور کہوں گاکہ کم از کم " آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس "کے دوستوں کو۔۔۔جن کی تیسری تسل "الحاق پاکستان " کا نعرہ بیچ کر کمائی کررہی ہے اور آنے والی سات نسلوں کا مستقبل بھیسنوار چکی ہے پر فرض ہے کہ وہ فوری طور "تحریک صوبہ جموں وکشمیر " شروع کریں اورجو علاقہ ہمارے پاس ہے، کم از کم اسے تو پاکستان کاحصہ بنا کر "الحاق پاکستان "کے نعرے کا کچھ تو بھرم رکھیں۔۔۔یقینا اس سے انہیں ثواب داریں بھی حاصل ہوگا اور مری ہوئی سیاست بھی زندہ ہو جائے گی۔۔۔۔وگرنہ۔۔۔آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔۔جب آپ موجودہ آزادکشمیر کوالحاق پاکستان کی پہلی قسط کے تحت صوبہ بنادو گے تو پھر آرام سے ہم بقیہ حصہ کا الحاق بھی پاکستان سے کریں گے۔۔۔۔یار یہ تو بتاؤ کہ ہوا یا خلا میں بیٹھ کر کیسیتم الحاق کرو گے۔۔۔۔موقع سے فائدہ اٹھاؤ دوستو۔۔۔۔۔۔وگرنہ اہل وفاکی نظر نہ صرف تم  حقیر ہی رہو گے۔۔۔۔۔بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے غدار بھی ایک وقت آئے گا تم ہی ٹھہرائے جاؤ گے۔۔۔۔ایڈوانس بتا رہا ہوں۔۔۔۔میری نظر میں 70 سال الحاق پاکستان کے نعرے گانے والے اگر آزادکشمیر کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کریں گے تو وہ بدترین منافق اور غدار ہوں گے۔۔۔۔۔راکے ایجنٹوں سے بھی زیادہ خطرناک۔۔۔کشمیریوں کے خون کے پیاسے۔۔۔۔۔اور اہل وفا تب ان سے الحاق کے نام پر اربوں کی جائیدادوں کا حساب لینے میں بھی حق بجانب ہوں گے۔۔۔۔۔۔

مجھے امید ہے کہ" آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس" نامی سیاسی جماعت۔۔۔۔جلداز جلد"صوبہ جموں وکشمیر "کی تحریک شروع کرے گی---- اور فرزند مجاہداول اس کی قیادت کریں گے کیونکہ مجاہد اول تو آج سے 23 سال قبل اس وقت جب چناب فارمولہ سامنے بھی نہیں آیا تھا اس کی حمایت کرچکے تھے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو فرسودہ قرار دے چکے تھے۔۔۔اگر مجاہد اول اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ناقابل عمل قرار دے چکے تھے تو تم کسی باغ کی مولی ہو۔۔۔۔(تب تقسیم کشمیر کا نام تو کسی نہیں لیا تھا لیکن چناب کشمیراسی کے گرد گھومتا تھا جس پر اعلی پالیسی سازوں اوراعلی دماغوں نے کام کیاتھا اور مجاہد اول نے بھی تقسیم کا نام لئے بغیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ناقابل عمل قرار دیاتھا اور جنرل پرویزمشرف کی حمایت کی تھی)

دوستو!کشمیر ایشو پر آخری تحریر کے ساتھ خدا حافظ۔۔۔۔۔اورآئندہ چند روز میں 2005 کے زلزلہ کے بعد جوکچھ ہوا۔۔۔۔ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا ریلیف اور ریسکیو آپریشن اور دوسری جانب۔۔۔ہماری حکومت اور بیوروکریسی کا ننگا ناچ۔۔۔  کچھ یادیں جو ضمیرپر آج تک بوجھ ہیں آپ سے شیئر کروں گا۔۔۔کیونکہ میں UN کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف اینڈریکسیوآپریشن کی مانیٹرنگ میں Involve رہا ہوں اور برائے راست پاکستان میں UN چیفکی سپرویژن میں مانیٹرنگ کا موثر اور مقدس فریضہ سرانجام دے چکا ہوں۔۔۔اللہ کے فضل سے لاکھوں متاثرین اور IDPs کے یواین چارٹر کے تحت حاصل شدہ حقوق کا تحفظ کیا کیونکہ حکومت اور سسٹم مجبور تھا اس وقت کہ یواین فنڈنگ اگر ہورہی تھی تو بنیادی انسانی حقوق کا احترام ضروری تھا۔۔۔۔وگرنہ فنڈنگ بند مطلب بند ہوجاتی۔۔۔۔۔اور میں عینی گواہ ہوں کہ۔۔۔ہمارے جوکرز بیوروکریٹس کی غیرسنجیدگی، نالائقی اور اچھل کود کے باعث کروڑروں ڈالر کی فنڈنگ بند یا دیگر ممالک شفٹ ہوئی۔۔۔۔کیونکہ اس وقت کے بڑے بڑے اعلی عہدیداروں کو۔۔۔ای میل۔۔۔کامطلب تک نہیں پتا تھا۔۔۔اور گورے ای میل۔۔۔۔کے بغیر چلتے نہیں تھے۔۔۔۔۔اور کچھ جوکر ہمیں کہتے تھے کہ ہماری طرف سے بھی اپنی گوری کو ای میل کردینا۔۔۔۔۔کیونکہ ہمیں ای میل، شی میل کا کچھ پتا نہیں۔۔۔ان جوکرز کی دلچسپی صرف اور صرف گوریوں پر ٹھرک جھاڑنے کی حد تک ہوتی تھی متاثرین اور فنڈنگ جائے بھاڑ میں کیونکہ اس میں سے انہیں کمیشن ملنا نہیں تھا جبکہ دوسری جانب وہ تو حکومت سے پوری مراعات وصول کر رہے تھے۔۔۔۔ میٹنگز برخواست ہوجایاکرتی تھیں۔۔۔۔تو ایسے کھوتوں کا رویہ دیکھ کر کس نے کیا فنڈنگ کرنی تھی۔۔۔۔میں نے اس وقت یواین کے ٹا پ لیول کے ایمرجنسی اور ریلیف ایکسپرٹس کو متاثرین زلزلہ، شہداء، آئی ڈی پیز، معذور افراد اور بیواؤں۔۔۔اور دوسری جانب۔۔۔جوکرز کی اچھل کود اور غیر سنجیدگی پر روتے تک دیکھا کیونکہ میں ان کے بہت قریب تھا اور وہ میری رپورٹنگ پر مکمل انحصار کرتے تھے۔۔۔مجھے فخر ہے کہمجھ سمیت دیگر دو 2 دوستوں کی ٹیم نے پس پردہ رہ کر لاکھوں آئی ڈی پیزکے حقوق کے تحفظ اوربحالی و آباد کاری کیلئے دن رات کام کیا اور یواین فنڈنگ میں خردبرد کرنے والے بہت سے مگرمچھوں کے خواب ادھورے کے ادھورے ہی رہے۔۔۔اور کوئی حرام خورجان بھینہ سکا کہ ان کے پیٹ پر لات کون مار رہا ہے۔۔۔۔میں اس دور کے چند گمنام ہیروزکے نام اس امید کے ساتھ سامنے لاؤں گے کہ کم از کم حکومت ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اگر ان میں سے کچھ زندہ ہوں تو۔۔۔ملک بلا کرکسی چھوٹے سے ایوارڈ سے ہی نوازدے، کیونکہ انہوں نے تو ہمارے ساتھ ہمارے لوگوں کیلئے اپنی عیش و عشرت چھوڑ کر۔۔۔اپنی چھٹیاں تک قربان کر کے۔۔۔۔مزدوروں کی طرح دن رات  کام کیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(سی ایم او اور ایراء، سیراء والے یقینا بھول گئے ہوں گے لیکن ان گوروں کو ہمارے کیمپوں اور متاثرین کے نام تک آج بھی زبانی یاد ہیں جن کے ساتھ انہوں نے مزدوروں کی طرح کا م کیاتھا۔۔۔میں نے انسانیت ان سے سیکھی)

فقیرانہ آئے صدا کرچلے 



Saturday, December 6, 2025

The Pearl of AJK Beaursucracy.

 


Syed Shahid Mohiuddin Qadri is a senior and experienced government secretary in Azad Jammu and Kashmir. He is known for his honesty, good administrative skills, and positive attitude, and never makes decisions under political pressure, but rather based on merit and a national outlook. He is a valuable asset to the government.

Despite his immense capabilities, unfortunately, the government has continuously overlooked him for the past ten years, giving him insignificant postings. If the new government of Azad Kashmir truly wants reforms, it must value officers like Syed Shahid Mohiuddin Qadri and make them part of the policymaking and reform process." 

It is worth noting that a report from April 2023 mentioned Syed Shahid Mohiuddin Qadri as the Secretary of Local Government and Rural Development, actively participating in high-level meetings to review development programs.

"Syed Shahid Mohiuddin Qadri is the only officer whose honesty, integrity, national thinking, and impartial approach can be vouched for. Especially in the Civil Secretariat where I spent over twenty-six years of my life, during this long period, Shahid Mohiuddin Qadri is the only person whose honesty and integrity I can swear by. He is my first mentor. It is another matter that I haven't met him for the last 12 years because the relationship of his sternness and respect were two such contradictory realities that kept me away from him.

I hope the new government, especially Prime Minister Faisal Mumtaz Rathore, and other policymakers recognize Mr. Shahid's abilities and will give him an important posting where he can play a key and decisive role in bringing the government's reform agenda, if any.

Thnkx

Explanation


 محترم ریاض چغتائی صاحب نے میری گزشتہ پوسٹ جو شاہد محی الدین قادری صاحب، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، چیئرمین ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے بارے میں تھی پر کمنٹ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا وہ اشرافیہ کی مراعات کے خاتمہ کیلئے حکومت کو کوئی پلان دے سکتے ہیں۔علاوہ ازیں کچھ لوگوں نے مجھے چاپلوس، جھولی چک اور اس طرح کے طعنوں سے نوازا۔۔۔میں آزادی اظہار رائے کا قائل ہیں آپ کی رائے کااحترام ہے تاہم تفصیلی وضاحت بھی پیش خدمت ہے۔


میں شاہد صاحب کو 27 سال سے جانتا ہوں۔میں سروس میں آنے سے پہلے نسیم حجازی اور مولانا مودودی کے لٹریچر سے متاثر تھا۔منزل کوئی او ر تھی لیکن حالات سرکاری نوکر بنا گئے۔ میرے پہلے استاد ہیں اور پہلی پوسٹنگ ان کے ساتھ ہوئی۔محکمہ قانون میں فائلوں میں شاہدصاحب صاحب اور فرحت علی میر صاحب کے نوٹ پڑھ پر لکھنا سیکھا۔دونوں آفیسرز کے نوٹس میں قومی سوچ، ایمانداری اور دیانتداری کی جھلک ہوا کرتی تھی۔شاہد صاحب ہمیشہ سے کرپشن، کرپٹ مافیا اور ہیرپھیر کرنے والے والوں کے دشمن ہیں۔نمازی اور پرہیز گارہیں۔کچھ کرناچاہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ ہویا کرپٹ مافیا کو لگام دینا۔شاہد صاحب سے بڑھ کر کوئی چائس موجودہ سسٹم میں موجود نہیں۔دباؤ اور پریشر کے آگے ڈٹنا بھی اولین میں نے شاہد صاحب سے سیکھا۔اگر یہ کمپرومائیزکرنے والے ہوتے تو 15دن جیل کی ہوا نہ کھاتے۔کیا آج تک کوئی حاضرسروس سیکرٹری جیل گیا۔۔۔۔؟اگرانہیں کوئی بھی ٹارگٹ دیاجائے لیکن فری ہینڈکے ساتھ تو 1000فیصد رزلٹ کی مجھے توقع ہے۔

کچھ لوگ مجھے چاپلوسی یا کسی مفاد کے تابع اس تحریر کا طعنہ دے رہے ہیں۔میں ستائیس سال سے مختلف فرضی ناموں سے لکھتارہا ہوں۔ کبھی کسی کی تعریف نہیں کی۔گالی کی زبان میں لکھا، نتائج بھگتنے لیکن باز نہیں آیااور آج تک ایک پیسہ تک لیا بہت کچھ ٹھکرایا۔لیکن پہلی تحریر ہے جو کسی کے حق میں لکھی۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ جب شاہد صاحب سیکرٹری سروسز تھے تب سے آج تک میں انہیں ملا تک نہیں۔ باوجود اس کے، ان کے سیکرٹری سروسز کے دور سے آج تک کئی مشکلات سے گزرا۔کھبی کسی Favor کیلئے ان کے پاس نہیں گیا۔حالانکہ میں جانتا ہوں ان کی کال تو بڑی بات ایک Text Message بھی میری مشکلات کم کرسکتا تھااوران کی محبت کا تقاضا تھا کہ کبھی بھی کسی بھی وقت وہ مجھے مایوس نہیں کرتے یہ اور بات ہے ڈانتے ضرور اسی لئے ان کے پاس نہیں گیا۔

اب چونکہ میں سروس میں نہیں رہا۔میرے دوستوں نے 6سال کی محنت کے بعد مجھے فارغ کروادیا۔ایک قرض تھاکسی کی محبت کااور 27 سال میں ایک ہی محبت ملی، جو اتاردیا سسٹم بانجھ نہیں یہاں ہیرے بھی موجود ہیں لیکن ان کی قدر کی ضرورت ہے۔ شکریہ

The Pearl of AJK Beauraucracy

سیدشاہد محی الدین قادری آزاد جموں و کشمیر کے سینئر اور تجربہ کار سیکرٹری حکومت ہیں ہیں۔ اپنی ایمانداری، اچھی انتظامی صلاحیتوں اور مثبت رویے کے لیے جانے جاتے ہیں اور کبھی بھی سیاسی دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرتے بلکہ میرٹ اور ایک قومی سوچ کے تحت فیصلے کرتے ہیں اوروہ حکومت کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔موصوف کی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود بدقسمتی سے گزشتہ دس سالوں سے حکومت نے انہیں مسلسل نظراندازکررکھا ہے اور غیر اہم پوسٹنگ کی جارہی ہے۔آزادکشمیر کی نئی حکومت اگر واقعی اصلاحات چاہتی ہے توشاید محی الدین صاحب جیسے آفیسرز کی قدر کرنا ہوگی اور انہیں پالیسی سازی اور اصلاحاتی عمل کاحصہ بناناہوگا۔
سید شاہد محی الدین قادری وہ واحد آفیسر ہیں جن کی ایمانداری، دیانتداری ، قومی سوچ اورغیرجانبدارانہ اپروچ کی قسم کھائی جاسکتی ہے۔خصوصا سول سیکرٹریٹ جہاں میں اپنی زندگی کے چھبیس سال سے زائد عرصہ گزار،اس طویل عرصہ میں صرف شاہد محی الدین قادری ہی وہ واحد شخصیت ہیں جن کی ایمانداری اور دیانتداری کی میں قسم کھا سکتا ہوں۔ میرے اولین استاد ہیں۔یہ اور بات ہے کہ گزشتہ 12 سال سے میں ان سے ملا تک نہیں کیونکہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ اور احترام کارشتہ دو ایسی متضاد حقیقتیں تھیں جو مجھے ان سے دور کر گئیں۔
مجھے امید ہے کہ نئی حکومت خصوصا وزیراعظم فیصل ممتاز راٹئھور اور دیگر پالیسی ساز شاہد صاحب کی صلاحیتیوں کا اعتراف کرتے ہیں انہیں اہم پوسٹنگ دیں گے جو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈا اگر کوئی ہو تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کریں