معاہدہ کراچی۔۔۔۔غلامی کی دستاویز یا امید کی کرن
(معاہدہ کراچی کے بارے میں اپنی رائے اور مشاہدات آپ کے ساتھ شیئر کرنے جارہا ہوں، جانتا ہوں کہ بہت سے دوستوں کو برا لگے گا لیکن میں زمینی حقائق پر بات کروں گا جس کے بہت سے گواہ بھی آپ کو مل جائیں گے)
آزادکشمیر میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے ساتھ ہی پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر معاہدہ کراچی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے اور دوسری جانب یہ رونا بھی رویا جارہا ہے کہ آزادکشمیر کے سینئر پولیس آفیسرز کے ساتھ زیادتی ہو گئی کیونکہ ایک جونیئر آفیسر ان پر مسلط کر دیا گیا۔تنقید کانشانہ بنانے والے اکثر دوست ایسے ہیں جو سسٹم کو قریب سے نہیں جانتے اور باہر رہ جب زمینی حقائق سے آپ آگاہ نہیں ہوتے تو انقلابی نعرے اکثر پرکشش ہی لگتے ہیں اور بعض قوتیں ان نعروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں حالانکہ نعرے لگانے والوں کا ان مقاصد سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
میں نے آزادکشمیر کی بیوروکریسی کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے، حکومتی نظام کو بھی۔۔۔ فیصلہ سازی کو بھی۔۔۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آزادکشمیرکی تاریخ میں چند ہی گنے چنے آفیسرز جن میں طارق مسعود،خلیل قریشی، شیخ حفیظ الرحمن، راجہ فاروق نیاز،نعیم شیراز، اکرم سعیل،سردار رحیم، صادق ڈاراور موجودہ بیوروکریسی میں سید شاہد محی الدین قادری کے سوا بقیہ اکثریت صرف اور صرف ان پڑھ سیاسی قیادت کے منشی کی حیثیت سے کل بھی کام کرتی رہی اور آج بھی کررہی ہے۔قومی سوچ اور قوت فیصلہ سے محروم، کرپشن، ان پڑھ سیاسی قیادت کی منشی گیری، کمیشن اور اقرباء پروری میں لتھڑی ہوئی۔۔۔۔۔نااہل بیوروکریسی۔۔۔۔حقیقت میں تو یہ فیڈل سیکرٹریٹ میں۔۔۔ قاصد۔۔۔لگنے کے قابل بھی نہیں۔
لینٹ آفیسرز کو گالیاں دینا ایک فیشن بن چکا ہے دوستو۔۔۔۔ماضی قریب میں اور معاہدہ کراچی کے بعد ایک ہی موقع ایسا آیا کہ اتفاقاً غالباً اکاؤنٹس گروپ کے ایک آفیسر ملک صادق جن کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھا شاید۔۔۔۔بدقسمتی سے انہیں سیکرٹری مالیات آزادکشمیر تعینات کردیاگیا۔جن لوگوں نے ملک صادق سیکرٹری مالیات کا دور دیکھا ہے وہ گواہی دیں گے کہ آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری خزانہ اور محکمہ زکوۃ برابری کی سطع پر آگئے۔۔۔۔وزراء کی چٹوں پر فنڈز ریلیز ہوتے رہے۔۔۔جنگلات کی چند فٹ لکڑی کی خاطر بھی کروڑوں روپے کے فنڈز ریلیز ہوئے۔۔۔مالیاتی ڈسپلن نامی چیز ایک خواب بن گئی۔۔۔تقرریوں، تبادلوں کے بدلے سرکاری خزانہ کی ڈیلیں ہوتی رہیں۔۔۔وہ تو شکر ہے کہ موصوف ریٹائرڈ ہو گئے اور ان کے جانے کے بعد ان کے ماتحت آفیسرز اور سٹاف نے بھی کانوں کوہاتھ لگائے۔۔۔اور شکرانے کے نوافل ادا کئے کیونکہ ریاست کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ پیدا ہوچکا تھا۔۔۔۔اور دوستو! میں آپ کو بتاتا ہوں کہ تب غالباً یہ 10،12سال قبل کی بات ہے، وفاق میں اعلی سطع پر فیصلہ سازوں نے یہ فیصلہ کیاتھا کہ آئندہ آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے کسی بھی آفیسر کو چیف سیکرٹری، سیکرٹری مالیات، انسپکٹر جنرل یااکاؤنٹٹ جنرل تعینات نہیں کیا جائے حالانکہ ملک صادق فیڈرل گورنمنٹ کے آفیسر تھے، موصوف کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھاذرا سوچیئے اگر ان کی جگہ کوئی ایسا آفیسر جو آزادکشمیر سروس کا ہوتاسیکرٹری مالیات لگ جاتا تو کیا ہوتا۔۔۔۔سوچ کے بھی خوف آتاہے۔۔۔۔تو دوستو! معاہدہ کراچی آج بھی زندہ ہے تو صرف اور صرف ہماری وجہ سے ورنہ فیڈرل میں بیٹھے پالیسی سازوں کو تو شاید کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔مسئلہ لوکل آفیسرز کی Capacity کا ہے کیونکہ یہ سارے کے سارے تالاب کے۔۔۔ڈڈوو۔۔۔ ہیں۔۔۔۔(اور ہاں چیف سیکرٹری کو گالیاں دینا بھی ایک فیشن ہے۔۔۔۔تو دوستو! کان کھول کے سنو۔۔۔۔چیف سیکرٹری آپ کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ۔۔۔۔آپ کی قاتل اور کرپٹ سیاسی قیادت کے سامنے ہمیشہ آپ کی خاطر دیوار بن کر کھڑا ہوتا ہے اور اگر آج بھی آزادکشمیر میں کہیں میرٹ اور انصاف پر کوئی عوامی فیصلہ ہوتا ہے جس سے براۂ راست عام آدمی مستفید ہو۔۔۔۔تو اس کے پیچھے چیف سیکرٹری کاہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔ایک عام آدمی، پڑھے لکھے نوجوان کیلئے جو کام، جو کردار چیف سیکرٹری کی پوسٹ ادا کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔۔۔وہ آج تک نہ کوئی عدالت کرسکی اور نہ ہی کوئی سیاسی لیڈر۔۔۔مجھے گالی دینے سے قبل سول سیکرٹریٹ جائیے اورگواہائیاں اکٹھی کیجئے کہ اگر چیف سیکرٹری کی آسامی نہ ہوتی اور چیف سیکرٹری لینٹ آفیسر نہ ہوتے کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔شاید آپ ڈوگرہ دور کو بھول جاتے۔۔۔۔اور یہاں جنگل کا قانون نافذ ہوتا)
(مجھ سے اختلاف یا تنقید سے قبل احباب سے گزارش ہے کہ یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں، آج بھی آپ محکمہ مالیات یا سول سیکرٹریٹ جا کر۔۔۔لوکل برانڈ سیکرٹری مالیات۔۔۔ملک صادق صاحب۔۔۔۔کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔۔موصوف نے آئندہ کیلئے کشمیری آفیسران کی ترقیابی کے دروازے بند کروائے۔)
دوسرا میرا ذاتی تجربہ ہے۔۔۔۔۔۔آج سے چند ماہ قبل ایک انتہائی نازک وقت میں۔۔۔جب میں کسی حادثہ کے قریب تھا۔۔۔۔میں نے پولیس اور انتظامیہ سے مدد مانگی۔۔۔انسپکٹر جنرل پولیس۔۔۔معذرت نام ذہن سے اتر گیا ہے۔۔۔غالباً رانا جبا ر۔۔۔مظفرآباد میں موجود تھے۔۔۔۔پولیس نے نہ چاہتے ہوئے بھی رات 12 بجے کے بعد حرکت کی اورکسی ممکنہ حادثہ کو روکا۔۔۔۔اس کے کچھ عرصہ بعد آئی جی (لینٹ آفیسر)غالباً رخصت پر ہیں یا بیرون ملک۔۔۔ایک مقامی آفیسر کے پاس آئی جی کا چارج ہے۔۔۔میں ایک بہت حساس قسم کی درخواست ایس ایس پی مظفرآباد کو دیتا ہوں۔۔۔جس پر دوسرے ہی روز چیف سیکرٹری آزادکشمیر بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ سے تین روز میں رپورٹ مانگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آئی جی لینٹ آفیسر موجود نہیں۔۔۔۔میں اپنے طور پر محکمہ پولیس سے کارروائی کی درخواست کرتا رہتاہوں۔۔۔۔چیف سیکرٹری آفس سے بھی مرکزی دفتر پولیس اور ایس ایس پی آفس کو میرٹ پر کارروائی کا کہا جاتا ہے لیکن۔۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد ایک رپورٹ ہمارے مقامی آئی جی صاحب کے دستخطوں سے غالباً چیف سیکرٹری آفس ارسال ہوتی ہے جس کی کاپی راقم کو تاحال نہیں دی جاتی لیکن میری معلومات کے مطابق پولیس کارروائی سے معذرت کرتے ہوئے عدالت جانے کا مشورہ دیتیہے۔۔۔۔۔
مختصراً پولیس ڈیپارٹمنٹ کسی حوالدار یا سیاسی ٹھیکیدار سے Influence ہوتا ہے اور انصاف Compromise ہوجاتا ہے۔۔اگر آئی جی (لینٹ آفیسر) موجود ہوتے تو محکمہ پولیس چیف سیکرٹری کو گول مول قسم کی رپورٹ ارسال کرنے کی کبھی جرات نہ کرتا۔۔۔۔
تو دوستو!یہ میرا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ معاہدہ کراچی غلامی کی دستاویز نہیں بلکہ میرے جیسے بے وسیلہ شہریوں کیلئے امید کی ایک کرن ہے۔۔۔۔۔اگر یہ لینٹ آفیسر نہ ہو ں تو اپنے خون سے لکھ کے دیتا ہوں کہ برادری ازم اور کرپشن میں لتھڑی ہوئی آزادکشمیر کی بیوروکریسی اور نام نہاد بیہودہ سیاسی قیادت آپ سے جینے کاحق تک چھین لیتی اور آپ ڈوگرہ راج کو بھی بھول جاتے۔
(دوستو!یہ میری ذاتی رائے ہے۔۔۔جو یقینا غلط ہوسکتی ہے۔۔۔لیکن میں نے زمینی حقائق کی روشنی میں بات کی ہے۔۔۔ا

No comments:
Post a Comment