Sunday, December 21, 2025

Bitter Truth


 نظام تعلیم اور چنددیگر ایشوزپر میری گزشتہ پوسٹ جو ہزاروں افراد نے ملاحظہ فرمائی۔۔۔میں ان تمام کاشکر گزار ہوں۔۔چند دوستوں نے تنقید کی بھی میں ان کابھی شکرگزار ہوں اور ان کی رائے کااحترام کرتا ہوں۔۔۔لیکن صرف تنقید کافی نہیں ہوتی۔۔۔غلط میں بھی ہوسکتا ہوں اور شاید ہوں بھی۔۔۔لیکن تنقید یا گالی کے بجائے ایک مثبت اور مدلل بحث بہت سے مسائل کا حل بن سکتی ہے، مج



ھے امید ہے کہ ہم جلد ہی اختلاف رائے کا احترام اور بحث ومباحثہ کے ذریعہ مسائل کا حق سیکھ جائیں گے۔

میں نے گزشتہ تحریر میں ایک متنازعہ ایشو اشارتاً چھیڑدیاتھا، جس میں محسن کشمیر اور مسلح افواج کے فخر سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کاذکر تھا۔اور اس اشارے کا تعلق مسئلہ کشمیر سے تھا۔۔۔۔میں آج سے 23 سال قبل مسئلہ کشمیر پر کھل پر اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا لیکن فرضی ناموں سے۔۔۔تب کشمیر ایشو پردل کی بات کااظہار بڑے بڑوں کے پاجامے خراب کردیتا تھا۔۔۔کیونکہ جہاد کشمیر زوروں پرتھا۔۔۔اور صرف پرنٹ میڈیا ہی وجود رکھتا تھا۔۔۔۔تب کے پرنٹ میڈیا کی طاقت کاانداز ہ شایدآجآپ نہ جن سکیں۔۔۔۔۔۔۔

اسی تسلسل میں 23 قبل کا ایک کالم جو اکثر اخباروں میں ابن رشید یا دیگر کسی فرضی نام سے چھپا لیکن چند قومی اخبارات اور انٹرنیشنل ایڈیشنزمیں میرے اصل نام سے چھاپ دیا گیا۔۔۔اس سے قبل میں مسئلہ کشمیر پر تواتر سے لکھتارہتا تھا۔۔۔ غیرتحریری کمٹمنٹ کے تحت مسئلہ کشمیر پریہ میری آخری تحریر تھی۔۔۔۔اس کے منظر عام پر آنے کے بعد جوکچھ ہوا بس آپ کیلئے اتنا اشارہ کافی ہے کہ اگلے ہی روز میں جس صحافتی ادارے سے منسلک تھا کے منیجنگ ایڈیٹر جناب دلپذیر عباسی مرحوم (اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں) بدحواسی کے عالم میں مجھے ملے اور بس اتنا کہا کہ " ڈار صاحب مرائی چھڑیا نے، اچانک فوتیگی ہوگئی ہے اور مجھے فوریمنہاسہ جانا ہے۔۔۔اور وہ عازم منہاسہ ہوئے۔۔۔۔ میرے مرحوم بڑے بھائی نے اپنے گاؤں کی جانب عازم سفر ہونے کا مشورہ دیا۔۔۔(۔۔۔مجھے ہمیشہ فخررہے گا کہ دلپذیر عباسی جیسا اپنے زمانہ کا شہنشاہ مجھ ناچیز سے دلی محبت اور احترام کارشتہ رکھتا تھا۔۔۔جس کی وجہ صرف اور صرف میری ٹوٹی پھوٹی چند لائنیں ہوتی تھیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابن رشید یا دیگر کچھ ناموں کے پیچھے کون چھپا ہے)۔۔۔ لیکن میں گاؤں تو نہیں گیا، بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے فخر ہے اس وقت  طاقتور پالیسی سازوں سے پالیسی کے ایک حساس نقطہ پر اپنا موقف منوانے اور شفٹ میں کامیاب ہوا لیکن اس کے بعد رضاکارانہ طور پرکشمیر ایشو پر کبھی نہیں لکھا کیونکہ یہ میرامینڈیٹ نہیں تھا۔(یہ تحریر جنرل پرویزمشرف کے " چناب فارمولہ " سے متعلق تھی اور دسمبر 2003وہ وقت تھا جب یہ فارمولہ فائنلائیزہورہاتھااورکاغذوں اور بیک ڈور چینلزکی حد تک۔۔۔2004 میں یہ چارنکاتی فارمولہ فائنل ہوا۔۔۔لیکن بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے۔۔۔یہ مسئلہ کشمیر کا مبنی بر حقائق بہترین حل تھا۔۔۔غالباً 2007 میں اندرونی دباؤ کے تحت بھارت اور پاکستان دونوں نے اس فارمولہ پر مزید ڈپلومیسی ترک کردی تھی)

اگرچہ میرا ریکارڈ گم یا چوری ہوتا رہتا ہے۔۔۔۔یہ 23سال پرانی تحریر کہیں بہت دور سے منگوائی تاکہ۔۔۔۔"سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے "۔۔۔ کیونکہ حالات کچھ ٹھیک نہیں آج کل میرے۔

میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھیوں سے گزارش کروں گاکہ میرے کالم کا دوسراپیراا ضرور پڑھیں۔۔۔غور سے پڑھیں۔۔۔اور ان لائنوں پر23 سال قبل اگرایک بڑی  Movementہوسکتی ہے تو ضرور ان میں کوئی خاص بات ہوئی ہوگی اگرچہ لکھنے والا کوئی خاص نہیں بلکہ ایک عام سا چرسی تھا۔۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ فارمولہ کے چار نکات لکھنے سے آج 23 سال بعد میں ڈر رہا ہوں۔۔۔۔اس وقت نہیں ڈرا تھا جب سب ڈرا رہے تھے۔۔۔۔لیکن آج ڈر لگتاہے۔۔۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں کہ۔۔۔۔غلطی معاف۔۔۔ہوش میں جب آئے  جب آئے  تو دوستی سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔مسلم کانفرنس کے محترم دوستوں کے علاوہ فرزند مجاہد اول سردار عتیق خان اور فرزند، فرزند مجاہداول عثمان عتیق صاحب سے مخاطب ہونے کی جسارت بلکہ گستاخی کرنے جارہا ہوں کہ بمہربانی چناب فارمولہ اور دسمبر 2003 کے اخبارات کا ریکارڈ ضرور ملاحظہ فرمائیں اور مجاہد اول کی رائے تب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں کیاتھی۔۔۔۔صرف نعرے لگانے اور عوام کو باسی سوداسلف بیچنے سے کام اب نہیں چلنے والاکیونکہ عوام اب باشعوراور آپ کی مفاداتی سیاست کو کو مسترد کرچکی ہے۔۔۔۔تھوڑی سے مجاہد اول کی کمائی حلال کریں اور ریسرچ پر توجہ دے کر میری 23سال قبل لکھی جانے والی تحریر کو جھوٹا ثابت کریں۔۔۔۔مہربانی ہوگی آپ کی وگرنہ آپ کے کارکن تو اسے سچ ہی سمجھیں گے۔۔۔۔۔ تقسیم کشمیر کی بات تو میں نہیں کرتا لیکن اتنا ضرور کہوں گاکہ کم از کم " آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس "کے دوستوں کو۔۔۔جن کی تیسری تسل "الحاق پاکستان " کا نعرہ بیچ کر کمائی کررہی ہے اور آنے والی سات نسلوں کا مستقبل بھیسنوار چکی ہے پر فرض ہے کہ وہ فوری طور "تحریک صوبہ جموں وکشمیر " شروع کریں اورجو علاقہ ہمارے پاس ہے، کم از کم اسے تو پاکستان کاحصہ بنا کر "الحاق پاکستان "کے نعرے کا کچھ تو بھرم رکھیں۔۔۔یقینا اس سے انہیں ثواب داریں بھی حاصل ہوگا اور مری ہوئی سیاست بھی زندہ ہو جائے گی۔۔۔۔وگرنہ۔۔۔آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔۔جب آپ موجودہ آزادکشمیر کوالحاق پاکستان کی پہلی قسط کے تحت صوبہ بنادو گے تو پھر آرام سے ہم بقیہ حصہ کا الحاق بھی پاکستان سے کریں گے۔۔۔۔یار یہ تو بتاؤ کہ ہوا یا خلا میں بیٹھ کر کیسیتم الحاق کرو گے۔۔۔۔موقع سے فائدہ اٹھاؤ دوستو۔۔۔۔۔۔وگرنہ اہل وفاکی نظر نہ صرف تم  حقیر ہی رہو گے۔۔۔۔۔بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے غدار بھی ایک وقت آئے گا تم ہی ٹھہرائے جاؤ گے۔۔۔۔ایڈوانس بتا رہا ہوں۔۔۔۔میری نظر میں 70 سال الحاق پاکستان کے نعرے گانے والے اگر آزادکشمیر کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کریں گے تو وہ بدترین منافق اور غدار ہوں گے۔۔۔۔۔راکے ایجنٹوں سے بھی زیادہ خطرناک۔۔۔کشمیریوں کے خون کے پیاسے۔۔۔۔۔اور اہل وفا تب ان سے الحاق کے نام پر اربوں کی جائیدادوں کا حساب لینے میں بھی حق بجانب ہوں گے۔۔۔۔۔۔

مجھے امید ہے کہ" آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس" نامی سیاسی جماعت۔۔۔۔جلداز جلد"صوبہ جموں وکشمیر "کی تحریک شروع کرے گی---- اور فرزند مجاہداول اس کی قیادت کریں گے کیونکہ مجاہد اول تو آج سے 23 سال قبل اس وقت جب چناب فارمولہ سامنے بھی نہیں آیا تھا اس کی حمایت کرچکے تھے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو فرسودہ قرار دے چکے تھے۔۔۔اگر مجاہد اول اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ناقابل عمل قرار دے چکے تھے تو تم کسی باغ کی مولی ہو۔۔۔۔(تب تقسیم کشمیر کا نام تو کسی نہیں لیا تھا لیکن چناب کشمیراسی کے گرد گھومتا تھا جس پر اعلی پالیسی سازوں اوراعلی دماغوں نے کام کیاتھا اور مجاہد اول نے بھی تقسیم کا نام لئے بغیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ناقابل عمل قرار دیاتھا اور جنرل پرویزمشرف کی حمایت کی تھی)

دوستو!کشمیر ایشو پر آخری تحریر کے ساتھ خدا حافظ۔۔۔۔۔اورآئندہ چند روز میں 2005 کے زلزلہ کے بعد جوکچھ ہوا۔۔۔۔ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا ریلیف اور ریسکیو آپریشن اور دوسری جانب۔۔۔ہماری حکومت اور بیوروکریسی کا ننگا ناچ۔۔۔  کچھ یادیں جو ضمیرپر آج تک بوجھ ہیں آپ سے شیئر کروں گا۔۔۔کیونکہ میں UN کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف اینڈریکسیوآپریشن کی مانیٹرنگ میں Involve رہا ہوں اور برائے راست پاکستان میں UN چیفکی سپرویژن میں مانیٹرنگ کا موثر اور مقدس فریضہ سرانجام دے چکا ہوں۔۔۔اللہ کے فضل سے لاکھوں متاثرین اور IDPs کے یواین چارٹر کے تحت حاصل شدہ حقوق کا تحفظ کیا کیونکہ حکومت اور سسٹم مجبور تھا اس وقت کہ یواین فنڈنگ اگر ہورہی تھی تو بنیادی انسانی حقوق کا احترام ضروری تھا۔۔۔۔وگرنہ فنڈنگ بند مطلب بند ہوجاتی۔۔۔۔۔اور میں عینی گواہ ہوں کہ۔۔۔ہمارے جوکرز بیوروکریٹس کی غیرسنجیدگی، نالائقی اور اچھل کود کے باعث کروڑروں ڈالر کی فنڈنگ بند یا دیگر ممالک شفٹ ہوئی۔۔۔۔کیونکہ اس وقت کے بڑے بڑے اعلی عہدیداروں کو۔۔۔ای میل۔۔۔کامطلب تک نہیں پتا تھا۔۔۔اور گورے ای میل۔۔۔۔کے بغیر چلتے نہیں تھے۔۔۔۔۔اور کچھ جوکر ہمیں کہتے تھے کہ ہماری طرف سے بھی اپنی گوری کو ای میل کردینا۔۔۔۔۔کیونکہ ہمیں ای میل، شی میل کا کچھ پتا نہیں۔۔۔ان جوکرز کی دلچسپی صرف اور صرف گوریوں پر ٹھرک جھاڑنے کی حد تک ہوتی تھی متاثرین اور فنڈنگ جائے بھاڑ میں کیونکہ اس میں سے انہیں کمیشن ملنا نہیں تھا جبکہ دوسری جانب وہ تو حکومت سے پوری مراعات وصول کر رہے تھے۔۔۔۔ میٹنگز برخواست ہوجایاکرتی تھیں۔۔۔۔تو ایسے کھوتوں کا رویہ دیکھ کر کس نے کیا فنڈنگ کرنی تھی۔۔۔۔میں نے اس وقت یواین کے ٹا پ لیول کے ایمرجنسی اور ریلیف ایکسپرٹس کو متاثرین زلزلہ، شہداء، آئی ڈی پیز، معذور افراد اور بیواؤں۔۔۔اور دوسری جانب۔۔۔جوکرز کی اچھل کود اور غیر سنجیدگی پر روتے تک دیکھا کیونکہ میں ان کے بہت قریب تھا اور وہ میری رپورٹنگ پر مکمل انحصار کرتے تھے۔۔۔مجھے فخر ہے کہمجھ سمیت دیگر دو 2 دوستوں کی ٹیم نے پس پردہ رہ کر لاکھوں آئی ڈی پیزکے حقوق کے تحفظ اوربحالی و آباد کاری کیلئے دن رات کام کیا اور یواین فنڈنگ میں خردبرد کرنے والے بہت سے مگرمچھوں کے خواب ادھورے کے ادھورے ہی رہے۔۔۔اور کوئی حرام خورجان بھینہ سکا کہ ان کے پیٹ پر لات کون مار رہا ہے۔۔۔۔میں اس دور کے چند گمنام ہیروزکے نام اس امید کے ساتھ سامنے لاؤں گے کہ کم از کم حکومت ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اگر ان میں سے کچھ زندہ ہوں تو۔۔۔ملک بلا کرکسی چھوٹے سے ایوارڈ سے ہی نوازدے، کیونکہ انہوں نے تو ہمارے ساتھ ہمارے لوگوں کیلئے اپنی عیش و عشرت چھوڑ کر۔۔۔اپنی چھٹیاں تک قربان کر کے۔۔۔۔مزدوروں کی طرح دن رات  کام کیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(سی ایم او اور ایراء، سیراء والے یقینا بھول گئے ہوں گے لیکن ان گوروں کو ہمارے کیمپوں اور متاثرین کے نام تک آج بھی زبانی یاد ہیں جن کے ساتھ انہوں نے مزدوروں کی طرح کا م کیاتھا۔۔۔میں نے انسانیت ان سے سیکھی)

فقیرانہ آئے صدا کرچلے 



No comments:

Post a Comment