مظفرآباد: سیکرٹریٹ ایکشن کمیٹی آزادکشمیر کے سابق چیئرمین و مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاسبان وطن پاکستان احسن رشید ڈار نے چیف سیکرٹرری آزادکشمیر، سینئر ممبربورڈ آف ریونیو اورکمشنر مظفرآباد ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ مظفرآباد میں بدنام زمانہ لینڈ مافیا اور پٹوارمافیا کی کارستانیوں کا نوٹس لیاجائے۔ چند گنے چنے بدنام زمانہ پٹواری اس وقت دیدہ دلیری سے مظفرآباد میں لوگوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں، ریکارڈ مال میں توڑ پھوڑ کررہے ہیں،انتقال اور بیعنامہ کے لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں لیکن محکمہ مال کے حکام آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں جو افسوسناک ہے۔ نلوچھی، چہلہ بانڈی، گوجرہ، طارق آباد اور دیگر علاقوں میں چند پٹواریوں نے ماضی قریب میں انت مچا رکھی ہے اور انہیں کوئی پوچھننے والا نہیں۔ درجنوں درخواستیں حکام مال اور انٹی کرپشن میں موجود ہونے کے باوجود ان نوسربازوں کے خلاف کوئی کاررواؤی نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے محکمہ ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ احسن رشید ڈار نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کا دفتر تک ان بدنام نوسربازوں سے محفوظ نہیں اور بعض نوسربازپٹواری ڈی سی آفس بیٹھ کر لوکوں کی جائیدادوں کی ڈیلز کررہے ہیں، انہیں آپس میں لڑارہے اور مقدمہ بازی میں الجھارہے ہیں۔ جائیداد کے تنازعوں میں جانیں تک ضائع ہوچکی ہیں اور ان تنازعات کے پیچھے لینڈ مافیا اور نوسربازپٹواریوں کاہاتھ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم،چیف سیکرٹری اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے گنے چنے چند بدنام زمانہ پٹواریوں کی جائیدادوں کاحساب لینے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ مال عوام کو بتائے اس کے سکیل پانچ کے ملازم جو ماہانہ 35ہزار تنخواہ لیتے ہیں اپر چھتر، نلوچھی اور گوجرہ میں کروڑوں کی جائیدادوں کے کیسے مالک بن گئے، ان نوسرباز پٹواریوں کو فی الفور معطل کر کے مظفرآباد بدر کیاجائے اورکرپشن کاپیسہ ریکور کر کے عوام کو واپس دلوایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکام مال نے نوٹس نہ لیا تو پاسبان وطن پاکستان راست اقدام پر مجبور ہو گی عوام کو نوسرباز پٹواریوں کے رحم
Sunday, February 22, 2026
M. Tahir Khokhar the powetful voice of Overseas Kashmir
طاہرکھوکھر۔۔۔۔اوورسیز کشمیریوں کی طاقتور آواز
خبر ہے کہ اوورسیزپاکستانیزفاؤنڈیشن 15، 16اور17فروری کو پی سی ہوٹل مظفرآباد میں اوورسیزکشمیریزکنونشن منعقد کرنے جارہی ہے۔جس کیلئے سینکڑوں شرکاء کی خفیہ فہرست مرتب کی جارہی ہے جو فاؤنڈیشن کے اخراجات پر مظفرآباد آئیں گے اور ٹرانسپورٹ، رہائش، دعوتوں وغیرہ پر کروڑوں روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔جبکہ حکومت آزادکشمیر بھی اس کنونشن کیلئے معاونت کررہی ہے اور ایک اعلی سطعی بااختیار Steering Group بھی تشکیل دیاگیاجس میں وفاقی حکومت کے نمائندگان کے علاوہ چیف سیکرٹری آزادکشمیر، سیکرٹری سروسز، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، سیکرٹری آبی وسائل و دیگر شامل ہیں۔ اس اعلی سطعی بااختیار کمیٹی کا مقصدکنونشن کو کامیاب بنانا ہے۔
یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقریباً 2 ملین کشمیری اوورسیزجووطن عزیزکے زرمبادلہ کے سب سے بڑے کنٹری بیوٹر اور ہمارے بلا تنخواہ سفیر ہیں کیلئے حکومت پاکستان، آزادکشمیر یا او پی ایف فاؤنڈیشن نے ماضی میں کیا کیا کہ اس میں جو کمی پیشی رہ گئی ہے پر غور کرنے کیلئے کروڑوں روپے کے اخراجات سے کنونشن کیا جارہا ہے۔ جواب یقینا مایوس کن ہے۔مظفرآباد میں صر ف ایک او پی ایف سکول، جہاں چار پانچ کمروں میں تقریباً ایک ہزار کے قریب بچوں کو بھیڑبکریوں کی طرح ٹھونساگیا ہے کے علاوہ ویلفیئر کی کوئی سکیم یا منصوبہ موجود نہیں۔
میرپور میں 45سال قبل OPFنے اوورسیزکشمیریوں کیلئے ایک رہائشی سکیم/منصوبہ او پی ایف ہاؤسنگ سکیم کے نام سے شروع کیا۔۔۔جو آج تک کامیاب نہیں ہوسکااور آبادکاری یا Development شروع نہیں ہوسکی۔فاؤنڈیشن نے ایک جانب اوورسیزکشمیریوں کو جھانسادے کر اربوں روپے پلاٹوں کے نام پرحاصل کئے جبکہ دوسری جانب رہائشی سکیم کے ماسٹر پلان کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے فارم ہاؤسز غیر متعلقہ لوگوں کو بیچ ڈالے۔۔۔ماسٹر پلان کی مکمل خلاف ورزی کی گئی۔۔لینڈ مافیا کے ساتھ ساز باز کر کے اوورسیزکی اربووں روپے کی سرمایہ کاری ضائع کر دی گئی ہے اور یہ پراجیکٹ کرپشن کی عملی تصویربن چکا ہے، اس سکیم کی ناکامی اور کرپشن کے باعث اوورسیز مزید سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں۔
سابق وزیر حکومت، صدر پاسبان وطن پاکستان طاہرکھوکھرجو اوورسیزکشمیریوں کی مخص نشست پر آزادکشمیر کی قانون اسمبلی میں پانچ سال تک اوورسیز کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے اوورسیز کشمیریوں کے حقوق کیلئے مختلف فورمز پرآواز بلند کرتے رہے ہیں، اپنے ذاتی اخراجات سے اوورسیزکے مسائل کے سلسلہ میں یورپ و گلف کے دورہ جات بھی کرتے رہے ہیں، اوورسیزکے مسائل کی مسلسل نشاندہی کرتے رہے ہیں۔جن میں ان کی جائیدادوں پر قبضہ، سرمایہ کاری و دیگر سماجی مسائل بھی شامل ہیں۔ او پی ایف ہاؤسنگ سکیم میرپور کے حوالے سے طاہرکھوکھر گزشتہ دو تین ماہ سے مسلسل پرنٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے سکیم کی ناکامی، اوورسیز کے اربورں روپے ڈوبنے، کرپشن اور خرد برد کی نشاندہی کررہے ہیں۔لیکن فاؤنڈیشن ان مسائل کو ایڈریس کئے بغیر کروڑوں روپے کے اخراجات سے کنونشن منعقد کروانے جارہی ہے جس کا مقصد مسائل سے توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں نظر آ رہا۔
مناسب ہو گا کہ وفاقی حکومت صورت حال کا نوٹس لے اور سابق وزیرحکومت، اوورسیز کشمیریوں کے نمائندہ جو آج کل ایک قومی سطع کی سیاسی جماعت پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر بھی ہیں کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور کنونشن میں حقیقی اوورسیزاور ان کے نمائندوں کی مشاورت سے اوورسیزکشمیریوں کے مسائل، سرمایہ کاری اور دیگر سماجی مسائل، ویلفیئر کیلئے اقدامات کیلئے ٹھوس تجاویز مرتب کی جائیں۔امید ہے کہ وفاقی حکومت اور حکومت آزادکشمیراس صورت حال کا نوٹس لے گی۔ تاکہ کروڑوں روپے کے یہ اخراجات بھی ضائع نہ ہوں اور اوورسیزکشمیری جو ہمارے بلا تنخواہ سفیر ہیں کے مسائل بھی حل ہوں اور انہیں سرمایہ کاری پر راغب کر کے آزادکشمیر میں معاشی ترقی و بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
#PMLaptopScheme2025#AJKRightsmovement#AJKGovernment#AJKGovernment#PakistanZindabad#uk#kashmir#kashmirvalley
Ahsan Rashid Dat Central Information Secretary Pasbane Watan Party meets Sardar Usman Attiwue
Central information secretary Pasbane Watam Pakistan Ahsan Rashid Dar cslled on senior leader and president youth wing All Jammu & Kashmir Muslim Conference Sardar Usman Atique Khan. Both dissvussed the isses faced by pdople of AJK and reitrate govt. AjK for solutiom
Karachi Agreement A
معاہدہ کراچی۔۔۔۔غلامی کی دستاویز یا امید کی کرن
(معاہدہ کراچی کے بارے میں اپنی رائے اور مشاہدات آپ کے ساتھ شیئر کرنے جارہا ہوں، جانتا ہوں کہ بہت سے دوستوں کو برا لگے گا لیکن میں زمینی حقائق پر بات کروں گا جس کے بہت سے گواہ بھی آپ کو مل جائیں گے)
آزادکشمیر میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے ساتھ ہی پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر معاہدہ کراچی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے اور دوسری جانب یہ رونا بھی رویا جارہا ہے کہ آزادکشمیر کے سینئر پولیس آفیسرز کے ساتھ زیادتی ہو گئی کیونکہ ایک جونیئر آفیسر ان پر مسلط کر دیا گیا۔تنقید کانشانہ بنانے والے اکثر دوست ایسے ہیں جو سسٹم کو قریب سے نہیں جانتے اور باہر رہ جب زمینی حقائق سے آپ آگاہ نہیں ہوتے تو انقلابی نعرے اکثر پرکشش ہی لگتے ہیں اور بعض قوتیں ان نعروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں حالانکہ نعرے لگانے والوں کا ان مقاصد سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
میں نے آزادکشمیر کی بیوروکریسی کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے، حکومتی نظام کو بھی۔۔۔ فیصلہ سازی کو بھی۔۔۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آزادکشمیرکی تاریخ میں چند ہی گنے چنے آفیسرز جن میں طارق مسعود،خلیل قریشی، شیخ حفیظ الرحمن، راجہ فاروق نیاز،نعیم شیراز، اکرم سعیل،سردار رحیم، صادق ڈاراور موجودہ بیوروکریسی میں سید شاہد محی الدین قادری کے سوا بقیہ اکثریت صرف اور صرف ان پڑھ سیاسی قیادت کے منشی کی حیثیت سے کل بھی کام کرتی رہی اور آج بھی کررہی ہے۔قومی سوچ اور قوت فیصلہ سے محروم، کرپشن، ان پڑھ سیاسی قیادت کی منشی گیری، کمیشن اور اقرباء پروری میں لتھڑی ہوئی۔۔۔۔۔نااہل بیوروکریسی۔۔۔۔حقیقت میں تو یہ فیڈل سیکرٹریٹ میں۔۔۔ قاصد۔۔۔لگنے کے قابل بھی نہیں۔
لینٹ آفیسرز کو گالیاں دینا ایک فیشن بن چکا ہے دوستو۔۔۔۔ماضی قریب میں اور معاہدہ کراچی کے بعد ایک ہی موقع ایسا آیا کہ اتفاقاً غالباً اکاؤنٹس گروپ کے ایک آفیسر ملک صادق جن کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھا شاید۔۔۔۔بدقسمتی سے انہیں سیکرٹری مالیات آزادکشمیر تعینات کردیاگیا۔جن لوگوں نے ملک صادق سیکرٹری مالیات کا دور دیکھا ہے وہ گواہی دیں گے کہ آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری خزانہ اور محکمہ زکوۃ برابری کی سطع پر آگئے۔۔۔۔وزراء کی چٹوں پر فنڈز ریلیز ہوتے رہے۔۔۔جنگلات کی چند فٹ لکڑی کی خاطر بھی کروڑوں روپے کے فنڈز ریلیز ہوئے۔۔۔مالیاتی ڈسپلن نامی چیز ایک خواب بن گئی۔۔۔تقرریوں، تبادلوں کے بدلے سرکاری خزانہ کی ڈیلیں ہوتی رہیں۔۔۔وہ تو شکر ہے کہ موصوف ریٹائرڈ ہو گئے اور ان کے جانے کے بعد ان کے ماتحت آفیسرز اور سٹاف نے بھی کانوں کوہاتھ لگائے۔۔۔اور شکرانے کے نوافل ادا کئے کیونکہ ریاست کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ پیدا ہوچکا تھا۔۔۔۔اور دوستو! میں آپ کو بتاتا ہوں کہ تب غالباً یہ 10،12سال قبل کی بات ہے، وفاق میں اعلی سطع پر فیصلہ سازوں نے یہ فیصلہ کیاتھا کہ آئندہ آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے کسی بھی آفیسر کو چیف سیکرٹری، سیکرٹری مالیات، انسپکٹر جنرل یااکاؤنٹٹ جنرل تعینات نہیں کیا جائے حالانکہ ملک صادق فیڈرل گورنمنٹ کے آفیسر تھے، موصوف کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھاذرا سوچیئے اگر ان کی جگہ کوئی ایسا آفیسر جو آزادکشمیر سروس کا ہوتاسیکرٹری مالیات لگ جاتا تو کیا ہوتا۔۔۔۔سوچ کے بھی خوف آتاہے۔۔۔۔تو دوستو! معاہدہ کراچی آج بھی زندہ ہے تو صرف اور صرف ہماری وجہ سے ورنہ فیڈرل میں بیٹھے پالیسی سازوں کو تو شاید کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔مسئلہ لوکل آفیسرز کی Capacity کا ہے کیونکہ یہ سارے کے سارے تالاب کے۔۔۔ڈڈوو۔۔۔ ہیں۔۔۔۔(اور ہاں چیف سیکرٹری کو گالیاں دینا بھی ایک فیشن ہے۔۔۔۔تو دوستو! کان کھول کے سنو۔۔۔۔چیف سیکرٹری آپ کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ۔۔۔۔آپ کی قاتل اور کرپٹ سیاسی قیادت کے سامنے ہمیشہ آپ کی خاطر دیوار بن کر کھڑا ہوتا ہے اور اگر آج بھی آزادکشمیر میں کہیں میرٹ اور انصاف پر کوئی عوامی فیصلہ ہوتا ہے جس سے براۂ راست عام آدمی مستفید ہو۔۔۔۔تو اس کے پیچھے چیف سیکرٹری کاہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔ایک عام آدمی، پڑھے لکھے نوجوان کیلئے جو کام، جو کردار چیف سیکرٹری کی پوسٹ ادا کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔۔۔وہ آج تک نہ کوئی عدالت کرسکی اور نہ ہی کوئی سیاسی لیڈر۔۔۔مجھے گالی دینے سے قبل سول سیکرٹریٹ جائیے اورگواہائیاں اکٹھی کیجئے کہ اگر چیف سیکرٹری کی آسامی نہ ہوتی اور چیف سیکرٹری لینٹ آفیسر نہ ہوتے کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔شاید آپ ڈوگرہ دور کو بھول جاتے۔۔۔۔اور یہاں جنگل کا قانون نافذ ہوتا)
(مجھ سے اختلاف یا تنقید سے قبل احباب سے گزارش ہے کہ یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں، آج بھی آپ محکمہ مالیات یا سول سیکرٹریٹ جا کر۔۔۔لوکل برانڈ سیکرٹری مالیات۔۔۔ملک صادق صاحب۔۔۔۔کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔۔موصوف نے آئندہ کیلئے کشمیری آفیسران کی ترقیابی کے دروازے بند کروائے۔)
دوسرا میرا ذاتی تجربہ ہے۔۔۔۔۔۔آج سے چند ماہ قبل ایک انتہائی نازک وقت میں۔۔۔جب میں کسی حادثہ کے قریب تھا۔۔۔۔میں نے پولیس اور انتظامیہ سے مدد مانگی۔۔۔انسپکٹر جنرل پولیس۔۔۔معذرت نام ذہن سے اتر گیا ہے۔۔۔غالباً رانا جبا ر۔۔۔مظفرآباد میں موجود تھے۔۔۔۔پولیس نے نہ چاہتے ہوئے بھی رات 12 بجے کے بعد حرکت کی اورکسی ممکنہ حادثہ کو روکا۔۔۔۔اس کے کچھ عرصہ بعد آئی جی (لینٹ آفیسر)غالباً رخصت پر ہیں یا بیرون ملک۔۔۔ایک مقامی آفیسر کے پاس آئی جی کا چارج ہے۔۔۔میں ایک بہت حساس قسم کی درخواست ایس ایس پی مظفرآباد کو دیتا ہوں۔۔۔جس پر دوسرے ہی روز چیف سیکرٹری آزادکشمیر بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ سے تین روز میں رپورٹ مانگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آئی جی لینٹ آفیسر موجود نہیں۔۔۔۔میں اپنے طور پر محکمہ پولیس سے کارروائی کی درخواست کرتا رہتاہوں۔۔۔۔چیف سیکرٹری آفس سے بھی مرکزی دفتر پولیس اور ایس ایس پی آفس کو میرٹ پر کارروائی کا کہا جاتا ہے لیکن۔۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد ایک رپورٹ ہمارے مقامی آئی جی صاحب کے دستخطوں سے غالباً چیف سیکرٹری آفس ارسال ہوتی ہے جس کی کاپی راقم کو تاحال نہیں دی جاتی لیکن میری معلومات کے مطابق پولیس کارروائی سے معذرت کرتے ہوئے عدالت جانے کا مشورہ دیتیہے۔۔۔۔۔
مختصراً پولیس ڈیپارٹمنٹ کسی حوالدار یا سیاسی ٹھیکیدار سے Influence ہوتا ہے اور انصاف Compromise ہوجاتا ہے۔۔اگر آئی جی (لینٹ آفیسر) موجود ہوتے تو محکمہ پولیس چیف سیکرٹری کو گول مول قسم کی رپورٹ ارسال کرنے کی کبھی جرات نہ کرتا۔۔۔۔
تو دوستو!یہ میرا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ معاہدہ کراچی غلامی کی دستاویز نہیں بلکہ میرے جیسے بے وسیلہ شہریوں کیلئے امید کی ایک کرن ہے۔۔۔۔۔اگر یہ لینٹ آفیسر نہ ہو ں تو اپنے خون سے لکھ کے دیتا ہوں کہ برادری ازم اور کرپشن میں لتھڑی ہوئی آزادکشمیر کی بیوروکریسی اور نام نہاد بیہودہ سیاسی قیادت آپ سے جینے کاحق تک چھین لیتی اور آپ ڈوگرہ راج کو بھی بھول جاتے۔
(دوستو!یہ میری ذاتی رائے ہے۔۔۔جو یقینا غلط ہوسکتی ہے۔۔۔لیکن میں نے زمینی حقائق کی روشنی میں بات کی ہے۔۔۔ا
Corrouption
ایک رکشے والے کے آگے محکمہ سروسز بے بس
جاوید رکشہ سمیت جو 4 چور ناجائز گاڑیاں استعمال کررہے ہین۔۔۔اخراجات ٹرانسپورٹ آفیسر، ایس او ٹرانسپورٹ سے لیکر سیکرٹری سروسز سے وصول کئے جائیں- سب کو کرپشن اور نااہلی میں معطل کیا جا کر انکوائری کی جائے۔
کیا قانون صرف احسن رشید ڈار کے لئے ہے-
۔۔۔۔تم سب پر لعنت بے شمار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Breakthrough im AJK politics
انہونی۔۔۔۔اور دیوار برلن ٹوٹ گئی
سرخ اور سبز۔۔۔دو رنگ نہیں۔۔۔دو نظریات ہیں (لفٹ اینڈرائیٹ)۔۔۔آگ اور خون۔۔۔آزادکشمیر کی سیاست کبھی ان دو نظریات کی چکی میں پستی رہتی تھی۔۔۔کئی جانیں ضائع ہوئیں۔۔۔تشدد کاراستہ اپنایا گیا، حاصل ضرب صفر۔۔لیکن تشدد نے الٹا اثر کیاجس کودبانے کی کوشش کی گئی وہ اتنی ہی قوت سے ابھرا اور آج۔۔۔سرخ۔۔آزادکشمیر کی سیاست کی افق پر چھا چکا ہے۔۔۔۔مجاہد اول کے غالباًتین دھائیاں قبل الفاظ (امان اللہ خا ن کے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کال کوکچلنے کی تمام کوششوں کے ناکام ہونے پر) آزادکشمیر میں اصل طاقتیں صرف دو ہی ہیں۔۔۔۔۔سرخ اور سبز(واضح رہے سبزکی نمائندگی کل بھی مسلم کانفرنس کرتی تھی اور آج بھی۔۔۔ سرخ کی جے کے این ایس ایف اور جے کے ایل ایف کل بھی اور آج بھی)۔۔۔حقیقت کا برملا اعتراف تھا۔۔مجاہداول کی دور اندیشی کے مخالفین تک قائل ہیں۔۔۔لیکن اس برملا اعتراف کے بعد بھی ً دبانے ً کی پالیسی ترک نہیں کی گئی اورکہیں نہ کہیں طاقت کااستعمال جاری رہا۔۔۔بہرحال نظریات کا یہ ٹکراؤ کسی پالیسی کے تحت روک دیاگیاتو رزلٹ یہ نکلا کہ آزادکشمیر کی سیاست قومی ایشوز سے ہٹ کر کھمبا، ٹوٹی، اقرباء پروری،کرپشن، میرٹ کی پامالیوں اور لوٹا کریسی کی حد تک محدود ہو کر رہی گئی جس کے نتائج اب پوری قوم بھگت رہی ہے۔۔۔۔۔اور عوامی ایکشن کمیٹی شاید۔۔۔ہمارے بڑوں کے انہی اعمال کا نتیجہ ہے۔۔۔یہ ایک ایسا کمبل ہے دوستو!جس سے تم لاکھ چاہو جان چھڑانے کی اب چھوٹنے والی نہیں۔
یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں۔۔۔کوئی عام تصویر نہیں۔۔۔ایک تاریخ ہے۔۔۔دیوار برلن ٹوٹ سکتی ہے۔۔۔۔ایک جانب سرخ مفلر میں سید اکابر شاہ اور دوسری جانب سردار عثمان عتیق۔۔۔۔آزادکشمیر کی کھوکھلی سیاست اورلوٹاکریسی، ضمیر فروشی میں لتھڑی ہوئی سیاسی قیادت کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ۔۔۔۔۔۔۔دونوں اپنے نظریات کی معراج پر۔۔۔۔۔صحیح اور غلط کا سوال ہی نہیں۔۔۔۔دنیا کدھر جارہی ہے۔۔۔کوئی پروا نہیں۔۔۔۔ایک کی سیاست ختم اور دوسرے کا مستقبل تاریک۔۔۔۔لیکن دونوں نظریات کے علمبردار مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ۔۔۔پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا اور کتنا مزید بہے گا۔بقول شاعر
زمانہ معترف ہے ہمارے استقامت کا
نہ ہم سے قافلہ چھوٹانہ ہم نے رہنما بدلا
راہ الفت میں گو ہم پر بڑا مشکل مقام آیا
نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راستہ بدلا
اگر سید اکابر حسین شاہ اور سردار عثمان عتیق ایک دوسرے کے نظریات کا احترم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے گلے مل سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے سچے یا جھوٹے کسی بھی قسم کے خداکو گالی نہ دینے کا عزم کرسکتے ہیں تو باقی پھر کیا بچتا ہے۔۔۔بس اس سلسلہ کو وسیع کیجئے۔۔۔۔نتائج دیکھنا۔۔۔جنہیں تم غدار کہتے۔۔۔اور سمجھتے ہو۔۔۔خود سے بڑھ کر وفادار اور محب وطن پاؤ گے۔۔۔کوئی راکٹ سائنس نہیں۔۔۔۔بس منجھی ٹھوکنا چھوڑو۔۔۔۔ان کی بات سنو۔۔۔گلے لگاؤ۔۔۔۔پھر کرشمہ دیکھنا۔۔۔
آزادکشمیر کے باشعور عوام نے ارتقاء کاتاریخ سفر طے کرتے ہوئے۔۔۔لوٹوں، نظریات فروشوں اورسیاسی مداریوں۔۔۔کو اب اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیا ہے۔۔۔۔۔تو میری دانست میں دو حقیقی خالص سیاسی و نظریاتی تحریکوں کو ڈائیلاگ کا راستہ اپنا کر۔۔۔انتہا پسندی کو ترک کر کے۔۔۔کچھ لو اور کچھ دو۔۔۔۔جیؤاور جینے۔۔۔۔کے تحت اس خلاء کو پر کرنے کیلئے آگے آنا چاہیے۔۔۔۔کشمیر کافیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔۔۔۔۔اور رائے شماری میں ہر کشمیری اپنی رائے دینے میں آزاد ہوگا۔۔۔۔ہنوز دہلی دور است۔۔۔۔۔ پھر لڑائی کیسی۔۔۔۔دہلی پہنچنے تک صرف اتنی سی بات تسلیم کرنی ہے اور خطہ سے غربت، جہالت،بے روزگاری، سیاسی آزادی، معاشی ترقی، نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور برادری ازم کے بت پاش پاش کرنے کیلئے جدوجہد، ۔۔۔۔ایک حقیقی سیاسی قیادت۔۔۔۔دشمن کی تمام سازشیں خود ناکام ہو جائیں گی۔۔۔۔ایک چارٹر آف انڈرسٹینڈنگ۔۔۔۔اور بس۔۔۔
فقیرانہ آئے، صدا کرچلے
میاں خوش رہو،ہم دعا کر چلے
#PMLaptopScheme2025 #AJKRightsmovement #ajknews #army #AJKGovernment #PakistanZindabad #AJKPolice #ADIALA #mareeffoundation #Pakistan
-
My previous post on the education system and other issues has been viewed by thousands, and I'm grateful to all of them. Some friends ...
-
Syed Shahid Mohiuddin Qadri is a senior and experienced government secretary in Azad Jammu and Kashmir. He is known for his honesty, good ...
-
مظفرآباد :سیکرٹریٹ ایکشن کمیٹی آزادکشمیر کے سابق چیئرمین احسن رشید ڈار نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ ریاستی بیوروکریسی کی ع...




