Sunday, February 22, 2026

Ahsan Rashid Dat Central Information Secretary Pasbane Watan Party meets Sardar Usman Attiwue

 Central information secretary Pasbane Watam Pakistan Ahsan Rashid Dar cslled on senior leader and president youth wing All Jammu & Kashmir Muslim Conference Sardar Usman Atique Khan. Both dissvussed the isses faced by pdople of AJK and reitrate govt. AjK for solutiom



Karachi Agreement A

 معاہدہ کراچی۔۔۔۔غلامی کی دستاویز یا امید کی کرن 

(معاہدہ کراچی کے بارے میں اپنی رائے اور مشاہدات آپ کے ساتھ شیئر کرنے جارہا ہوں، جانتا ہوں کہ بہت سے دوستوں کو برا لگے گا لیکن میں زمینی حقائق پر بات کروں گا جس کے بہت سے گواہ بھی آپ کو مل جائیں گے)

آزادکشمیر میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے ساتھ ہی پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر معاہدہ کراچی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے اور دوسری جانب یہ رونا بھی رویا جارہا ہے کہ آزادکشمیر کے سینئر پولیس آفیسرز کے ساتھ زیادتی ہو گئی کیونکہ ایک جونیئر آفیسر ان پر مسلط کر دیا گیا۔تنقید کانشانہ بنانے والے اکثر دوست ایسے ہیں جو سسٹم کو قریب سے نہیں جانتے اور باہر رہ جب زمینی حقائق سے آپ آگاہ نہیں ہوتے تو انقلابی نعرے اکثر پرکشش ہی لگتے ہیں اور بعض قوتیں ان نعروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں حالانکہ نعرے لگانے والوں کا ان مقاصد سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

میں نے آزادکشمیر کی بیوروکریسی کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے، حکومتی نظام کو بھی۔۔۔ فیصلہ سازی کو بھی۔۔۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آزادکشمیرکی تاریخ میں چند ہی گنے چنے آفیسرز جن میں طارق مسعود،خلیل قریشی، شیخ حفیظ الرحمن، راجہ فاروق نیاز،نعیم شیراز، اکرم سعیل،سردار رحیم، صادق ڈاراور موجودہ بیوروکریسی میں سید شاہد محی الدین قادری کے سوا بقیہ اکثریت صرف اور صرف ان پڑھ سیاسی قیادت کے منشی کی حیثیت سے کل بھی کام کرتی رہی اور آج بھی کررہی ہے۔قومی سوچ اور قوت فیصلہ سے محروم، کرپشن، ان پڑھ سیاسی قیادت کی منشی گیری، کمیشن اور اقرباء پروری میں لتھڑی ہوئی۔۔۔۔۔نااہل بیوروکریسی۔۔۔۔حقیقت میں تو یہ فیڈل سیکرٹریٹ میں۔۔۔ قاصد۔۔۔لگنے کے قابل بھی نہیں۔

لینٹ آفیسرز کو گالیاں دینا ایک فیشن بن چکا ہے دوستو۔۔۔۔ماضی قریب میں اور معاہدہ کراچی کے بعد ایک ہی موقع ایسا آیا کہ اتفاقاً غالباً اکاؤنٹس گروپ کے ایک آفیسر ملک صادق جن کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھا شاید۔۔۔۔بدقسمتی سے انہیں سیکرٹری مالیات آزادکشمیر تعینات کردیاگیا۔جن لوگوں نے ملک صادق سیکرٹری مالیات کا دور دیکھا ہے وہ گواہی دیں گے کہ آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری خزانہ اور محکمہ زکوۃ برابری کی سطع پر آگئے۔۔۔۔وزراء کی چٹوں پر فنڈز ریلیز ہوتے رہے۔۔۔جنگلات کی چند فٹ لکڑی کی خاطر بھی کروڑوں روپے کے فنڈز ریلیز ہوئے۔۔۔مالیاتی ڈسپلن نامی چیز ایک خواب بن گئی۔۔۔تقرریوں، تبادلوں کے بدلے سرکاری خزانہ کی ڈیلیں ہوتی رہیں۔۔۔وہ تو شکر ہے کہ موصوف ریٹائرڈ ہو گئے اور ان کے جانے کے بعد ان کے ماتحت آفیسرز اور سٹاف نے بھی کانوں کوہاتھ لگائے۔۔۔اور شکرانے کے نوافل ادا کئے کیونکہ ریاست کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ پیدا ہوچکا تھا۔۔۔۔اور دوستو! میں آپ کو بتاتا ہوں کہ تب غالباً یہ 10،12سال قبل کی بات ہے، وفاق میں اعلی سطع پر فیصلہ سازوں نے یہ فیصلہ کیاتھا کہ آئندہ آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے کسی بھی آفیسر کو چیف سیکرٹری، سیکرٹری مالیات، انسپکٹر جنرل یااکاؤنٹٹ جنرل تعینات نہیں کیا جائے حالانکہ ملک صادق فیڈرل گورنمنٹ کے آفیسر تھے، موصوف کا تعلق کوٹلی آزادکشمیر سے تھاذرا سوچیئے اگر ان کی جگہ کوئی ایسا آفیسر جو آزادکشمیر سروس کا ہوتاسیکرٹری مالیات لگ جاتا تو کیا ہوتا۔۔۔۔سوچ کے بھی خوف آتاہے۔۔۔۔تو دوستو! معاہدہ کراچی آج بھی زندہ ہے تو صرف اور صرف ہماری وجہ سے ورنہ فیڈرل میں بیٹھے پالیسی سازوں کو تو شاید کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔مسئلہ لوکل آفیسرز کی Capacity کا ہے کیونکہ یہ سارے کے سارے تالاب کے۔۔۔ڈڈوو۔۔۔ ہیں۔۔۔۔(اور ہاں چیف سیکرٹری کو گالیاں دینا بھی ایک فیشن ہے۔۔۔۔تو دوستو! کان کھول کے سنو۔۔۔۔چیف سیکرٹری آپ کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ۔۔۔۔آپ کی قاتل اور کرپٹ سیاسی قیادت کے سامنے ہمیشہ آپ کی خاطر دیوار بن کر کھڑا ہوتا ہے اور اگر آج بھی آزادکشمیر میں کہیں میرٹ اور انصاف پر کوئی عوامی فیصلہ ہوتا ہے جس سے براۂ راست عام آدمی مستفید ہو۔۔۔۔تو اس کے پیچھے چیف سیکرٹری کاہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔ایک عام آدمی، پڑھے لکھے نوجوان کیلئے جو کام، جو کردار چیف سیکرٹری کی پوسٹ ادا کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔۔۔وہ آج تک نہ کوئی عدالت کرسکی اور نہ ہی کوئی سیاسی لیڈر۔۔۔مجھے گالی دینے سے قبل سول سیکرٹریٹ جائیے اورگواہائیاں اکٹھی کیجئے کہ اگر چیف سیکرٹری کی آسامی نہ ہوتی اور چیف سیکرٹری لینٹ آفیسر نہ ہوتے کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔شاید آپ ڈوگرہ دور کو بھول جاتے۔۔۔۔اور یہاں جنگل کا قانون نافذ ہوتا)

(مجھ سے اختلاف یا تنقید سے قبل احباب سے گزارش ہے کہ یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں، آج بھی آپ محکمہ مالیات یا سول سیکرٹریٹ جا کر۔۔۔لوکل برانڈ سیکرٹری مالیات۔۔۔ملک صادق صاحب۔۔۔۔کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔۔موصوف نے آئندہ کیلئے کشمیری آفیسران کی ترقیابی کے دروازے بند کروائے۔)

دوسرا میرا ذاتی تجربہ ہے۔۔۔۔۔۔آج سے چند ماہ قبل ایک انتہائی نازک وقت میں۔۔۔جب میں کسی حادثہ کے قریب تھا۔۔۔۔میں نے پولیس اور انتظامیہ سے مدد مانگی۔۔۔انسپکٹر جنرل پولیس۔۔۔معذرت نام ذہن سے اتر گیا ہے۔۔۔غالباً رانا جبا ر۔۔۔مظفرآباد میں موجود تھے۔۔۔۔پولیس نے نہ چاہتے ہوئے بھی رات 12 بجے کے بعد حرکت کی اورکسی ممکنہ حادثہ کو روکا۔۔۔۔اس کے کچھ عرصہ بعد آئی جی (لینٹ آفیسر)غالباً رخصت پر ہیں یا بیرون ملک۔۔۔ایک مقامی آفیسر کے پاس آئی جی کا چارج ہے۔۔۔میں ایک بہت حساس قسم کی درخواست ایس ایس پی مظفرآباد کو دیتا ہوں۔۔۔جس پر دوسرے ہی روز چیف سیکرٹری آزادکشمیر بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ سے تین روز میں رپورٹ مانگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آئی جی لینٹ آفیسر موجود نہیں۔۔۔۔میں اپنے طور پر محکمہ پولیس سے کارروائی کی درخواست کرتا رہتاہوں۔۔۔۔چیف سیکرٹری آفس سے بھی مرکزی دفتر پولیس اور ایس ایس پی آفس کو میرٹ پر کارروائی کا کہا جاتا ہے لیکن۔۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد ایک رپورٹ ہمارے مقامی آئی جی صاحب کے دستخطوں سے غالباً چیف سیکرٹری آفس ارسال ہوتی ہے جس کی کاپی راقم کو تاحال نہیں دی جاتی لیکن میری معلومات کے مطابق پولیس کارروائی سے معذرت کرتے ہوئے عدالت جانے کا مشورہ دیتیہے۔۔۔۔۔

مختصراً پولیس ڈیپارٹمنٹ کسی حوالدار یا سیاسی ٹھیکیدار سے Influence ہوتا ہے اور انصاف Compromise ہوجاتا ہے۔۔اگر آئی جی (لینٹ آفیسر) موجود ہوتے تو محکمہ پولیس چیف سیکرٹری کو گول مول قسم کی رپورٹ ارسال کرنے کی کبھی جرات نہ کرتا۔۔۔۔

تو دوستو!یہ میرا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ معاہدہ کراچی غلامی کی دستاویز نہیں بلکہ میرے جیسے بے وسیلہ شہریوں کیلئے امید کی ایک کرن ہے۔۔۔۔۔اگر یہ لینٹ آفیسر نہ ہو ں تو اپنے خون سے لکھ کے دیتا ہوں کہ برادری ازم اور کرپشن میں لتھڑی ہوئی آزادکشمیر کی بیوروکریسی اور نام نہاد بیہودہ سیاسی قیادت آپ سے جینے کاحق تک چھین لیتی اور آپ ڈوگرہ راج کو بھی بھول جاتے۔


(دوستو!یہ میری ذاتی رائے ہے۔۔۔جو یقینا غلط ہوسکتی ہے۔۔۔لیکن میں نے زمینی حقائق کی روشنی میں بات کی ہے۔۔۔ا


Ahsan Rashid Dar Demands Presidential Elevtiom


 

Corrouption

 ایک رکشے والے کے آگے محکمہ سروسز بے بس

جاوید رکشہ سمیت جو 4 چور ناجائز گاڑیاں استعمال کررہے ہین۔۔۔اخراجات ٹرانسپورٹ آفیسر، ایس او ٹرانسپورٹ سے لیکر سیکرٹری سروسز سے وصول کئے جائیں- سب کو کرپشن اور نااہلی میں معطل کیا جا کر انکوائری کی جائے۔

کیا قانون صرف احسن رشید ڈار کے لئے ہے-

۔۔۔۔تم سب پر لعنت بے شمار۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Breakthrough im AJK politics

 انہونی۔۔۔۔اور دیوار برلن ٹوٹ گئی

سرخ اور سبز۔۔۔دو رنگ نہیں۔۔۔دو نظریات ہیں (لفٹ اینڈرائیٹ)۔۔۔آگ اور خون۔۔۔آزادکشمیر کی سیاست کبھی ان دو نظریات کی چکی میں پستی رہتی تھی۔۔۔کئی جانیں ضائع ہوئیں۔۔۔تشدد کاراستہ اپنایا گیا، حاصل ضرب صفر۔۔لیکن تشدد نے الٹا اثر کیاجس کودبانے کی کوشش کی گئی وہ اتنی ہی قوت سے ابھرا اور آج۔۔۔سرخ۔۔آزادکشمیر کی سیاست کی افق پر چھا چکا ہے۔۔۔۔مجاہد اول کے غالباًتین دھائیاں قبل الفاظ (امان اللہ خا ن کے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کال کوکچلنے کی تمام کوششوں کے ناکام ہونے پر) آزادکشمیر میں اصل طاقتیں صرف دو ہی ہیں۔۔۔۔۔سرخ اور سبز(واضح رہے سبزکی نمائندگی کل بھی مسلم کانفرنس کرتی تھی اور آج بھی۔۔۔ سرخ کی جے کے این ایس ایف اور جے کے ایل ایف کل بھی اور آج بھی)۔۔۔حقیقت کا برملا اعتراف تھا۔۔مجاہداول کی دور اندیشی کے مخالفین تک قائل ہیں۔۔۔لیکن اس برملا اعتراف کے بعد بھی  ً دبانے  ً کی پالیسی ترک نہیں کی گئی اورکہیں نہ کہیں طاقت کااستعمال جاری رہا۔۔۔بہرحال نظریات کا یہ ٹکراؤ کسی پالیسی کے تحت روک دیاگیاتو رزلٹ یہ نکلا کہ آزادکشمیر کی سیاست قومی ایشوز سے ہٹ کر کھمبا، ٹوٹی، اقرباء پروری،کرپشن، میرٹ کی پامالیوں اور لوٹا کریسی کی حد تک محدود ہو کر رہی گئی جس کے نتائج اب پوری قوم بھگت رہی ہے۔۔۔۔۔اور عوامی ایکشن کمیٹی شاید۔۔۔ہمارے بڑوں کے انہی اعمال کا نتیجہ ہے۔۔۔یہ ایک ایسا کمبل ہے دوستو!جس سے تم لاکھ چاہو جان چھڑانے کی اب چھوٹنے والی نہیں۔

یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں۔۔۔کوئی عام تصویر نہیں۔۔۔ایک تاریخ ہے۔۔۔دیوار برلن ٹوٹ سکتی ہے۔۔۔۔ایک جانب سرخ مفلر میں سید اکابر شاہ اور دوسری جانب سردار عثمان عتیق۔۔۔۔آزادکشمیر کی کھوکھلی سیاست اورلوٹاکریسی، ضمیر فروشی میں لتھڑی ہوئی سیاسی قیادت کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ۔۔۔۔۔۔۔دونوں اپنے نظریات کی معراج پر۔۔۔۔۔صحیح اور غلط کا سوال ہی نہیں۔۔۔۔دنیا کدھر جارہی ہے۔۔۔کوئی پروا نہیں۔۔۔۔ایک کی سیاست ختم اور دوسرے کا مستقبل تاریک۔۔۔۔لیکن دونوں نظریات کے علمبردار مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ۔۔۔پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا اور کتنا مزید بہے گا۔بقول شاعر

زمانہ معترف ہے ہمارے استقامت کا

نہ ہم سے قافلہ چھوٹانہ ہم نے رہنما بدلا

راہ الفت میں گو ہم پر بڑا مشکل مقام آیا

نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راستہ بدلا

اگر سید اکابر حسین شاہ اور سردار عثمان عتیق ایک دوسرے کے نظریات کا احترم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے گلے مل سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے سچے یا جھوٹے کسی بھی قسم کے خداکو گالی نہ دینے کا عزم کرسکتے ہیں تو باقی پھر کیا بچتا ہے۔۔۔بس اس سلسلہ کو وسیع کیجئے۔۔۔۔نتائج دیکھنا۔۔۔جنہیں تم غدار کہتے۔۔۔اور سمجھتے ہو۔۔۔خود سے بڑھ کر وفادار اور محب وطن پاؤ گے۔۔۔کوئی راکٹ سائنس نہیں۔۔۔۔بس منجھی ٹھوکنا چھوڑو۔۔۔۔ان کی بات سنو۔۔۔گلے لگاؤ۔۔۔۔پھر کرشمہ دیکھنا۔۔۔

آزادکشمیر کے باشعور عوام نے ارتقاء کاتاریخ سفر طے کرتے ہوئے۔۔۔لوٹوں، نظریات فروشوں اورسیاسی مداریوں۔۔۔کو اب اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیا ہے۔۔۔۔۔تو میری دانست میں دو حقیقی خالص سیاسی و نظریاتی تحریکوں کو ڈائیلاگ کا راستہ اپنا کر۔۔۔انتہا پسندی کو ترک کر کے۔۔۔کچھ لو اور کچھ دو۔۔۔۔جیؤاور جینے۔۔۔۔کے تحت اس خلاء کو پر کرنے کیلئے آگے آنا چاہیے۔۔۔۔کشمیر کافیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔۔۔۔۔اور رائے شماری میں ہر کشمیری اپنی رائے دینے میں آزاد ہوگا۔۔۔۔ہنوز دہلی دور است۔۔۔۔۔ پھر لڑائی کیسی۔۔۔۔دہلی پہنچنے تک صرف اتنی سی بات تسلیم کرنی ہے اور خطہ سے غربت، جہالت،بے روزگاری، سیاسی آزادی، معاشی ترقی، نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور برادری ازم کے بت پاش پاش کرنے کیلئے جدوجہد، ۔۔۔۔ایک حقیقی سیاسی قیادت۔۔۔۔دشمن کی تمام سازشیں خود ناکام ہو جائیں گی۔۔۔۔ایک چارٹر آف انڈرسٹینڈنگ۔۔۔۔اور بس۔۔۔ 

فقیرانہ آئے، صدا کرچلے

میاں خوش رہو،ہم دعا کر چلے

#PMLaptopScheme2025 #AJKRightsmovement #ajknews #army #AJKGovernment #PakistanZindabad #AJKPolice #ADIALA #mareeffoundation #Pakistan


Tuesday, January 6, 2026

New Year Message from PWP

 اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔۔ پاسبان وطن پاکستان کے چیئرمین شیخ مختار احمد ۔مرکزی صدر و سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر ۔ نائب صدر محترمہ نورین نور اور جنرل سیکرٹری امجد محمود بھٹی نے نئے سال کی آمد کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نیا سال ریاست کے عوام کے لیے نئی امیدنئے خواب اور ایک نئی سیاسی سمت کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ عوام ماضی کی ان غلطیوں کو دہرانا بند کریں جنہوں نے قوم کو بار بار بحرانوں میں دھکیلا۔انہوں نے عوام کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے مورثی اور خاندانی سیاست کی گرفت میں ہیں جہاں اقتدار چند مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتا رہتا ہے عملاً پاکستان اور کشمیر میں ایک ایسا دو جماعتی نظام نافذ ہے جو نسل در نسل اقتدار پر قابض رہ کر عوام کے وسائل حقوق اور مستقبل کا استحصال کر رہا ہے جو نسل در نسل اقتدار پر قابض رہ کر عوام کا خون چوس رہا ہے یہی وجہ ہے کہ عام آدمی آج بھی بنیادی سہولیات زندگی تعلیم صحت روزگار اور تحفظ سے محروم ہے۔ طاہر کھوکھر نے کہا کہ موجودہ حکمران طبقہ عوام سے کٹ چکا ہے اور اقتدار کے نشے میں اس حد تک مبتلا ہو چکا ہے کہ انہیں عوام کی جان و مال کی کوئی پروا نہیں رہی آج عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں یہ تمام حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ سیاسی نظام عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر نے کہا کہ نئی نسل اور ریاست کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مورثی خاندانی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے جب تک سیاست کو چند خاندانوں کی جاگیر سمجھنے کا تصور ختم نہیں ہوگا اس وقت تک نہ تو حقیقی جمہوریت قائم ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوام کو انصاف اور خوشحالی مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاسبان وطن پاکستان نے عوام کو ایک نئی سیاسی جماعت نئی سوچ اور نئی قیادت فراہم کی ہے جس کا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ نظام کی اصلاح ہے اس جماعت کے پلیٹ فارم سے قابل پڑھے لکھے باصلاحیت اور دیانتدار نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاکہ وہ ملکی و ریاستی سیاست میں مثبت کردار ادا کر سکیں کشمیر اور پاکستان کو آج ایسے نوجوانوں کی اشد ضرورت ہے جو ذاتی مفادات برادری ازم اور خاندانی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صرف عوام اور ریاست کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں نیا سال عوام کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز ہونا چاہیے جس میں عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں ریاست اور ملک کو بچانے کے لیے دو جماعتی خاندانی اور مورثی سیاسی جمود کو توڑنا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ یہی جمود ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جب تک چند مخصوص خاندان کی اجارہ داری ختم نہیں ہوگی اس وقت تک حقیقی جمہوریت اور عوامی خوشحالی کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔

Ahsan Rashid Dar to Contest Elections 2026

 Ahsan Rashid Dar, a prominent social activist and former Chairman of the Secretariat Election Committee, has announced his candidacy for the upcoming elections from Kotla constituency. He stated that Kotla is the most backward constituency in Azad Kashmir, with 70% of the population living below the poverty line. He blamed the political leadership, particularly Sardar Javed Ayub, Ms. Sadaf Sheikh, Ms. Noreen Arif, and Raja Arif, for exploiting the people by entangling them in petty politics and securing their own future generations' prosperity.


In a statement, Ahsan Rashid Dar said that the dark era of Kotla is coming to an end, and the people have become aware. In the upcoming elections, the people of Kotla will change the course of history and hold the looters accountable. He said he will be the voice of the oppressed and marginalized people of Kotla, and the voice of the workers, laborers, and unemployed youth will not only be heard in the corridors of power but will also shake the foundations of the establishment.


He announced that the process of accountability will begin before the elections, starting with an audit of the MLA funds for the past 15 years. The people's money was embezzled by a handful of power-brokers, but it will be recovered and spent on the welfare of the poor people of Kotla. He appealed to the people of Kotla to support him and take their rights from the traditional politicians, saying he is ready to make any sacrifice for the people of Kotla.



#HandsOff_MyHijab #AJKGovernment #AJKPolice #PMLaptopScheme2025 #ADIALA #taiwa #love