ضلع مظفرآباد کے ایک دو آفتادہ گاؤں سے جب تن تنہا ایک لڑکی
جس کا صدف شیخ تھا ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی کا علم بلند کرتے ہوئے میدان سیاست
میں نکلتی ہے تو اپنو ں کے علاوہ غیروں کے طنزکا نشانہ بھی بنتی ہے۔ لیکن اس کے پیٹھ
پر اس کا والد کھڑا تھا۔۔۔شیخ اخترمرحوم۔۔۔۔کوٹلہ کی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت۔۔۔جس
بیٹی کے پیچھے اس کا باپ کھڑا ہو۔۔۔حوصلہ بلند ہو تو اسے کون شکست دے سکتا ہے۔۔۔جس
علاقہ میں لڑکیوں سے نکاح کیلئے رضامندی لینابھی جرم سمجھا جاتاتھا وہاں صدف شیخ
نے میدان سیاست میں قدم رکھ کر سب کو للکاردیا۔۔۔ایک دفعہ قدم رکھا تو پیچھے مڑ کر
نہیں دیکھا۔۔۔۔پارٹی قیادت نے صلاحیتوں کو تسلیم کیا اور پارٹی شعبہ خواتین کی تنظیم
میں شامل کیا۔۔۔ایک تنہا لڑکی نے بھٹو کی افکاراور حلقہ کی خواتین کو empower
کرنے کیلئے دن رات ایک کا۔۔۔پورے ڈویژن میں پی پی کی
الیکشن مہم چلائی۔۔۔۔پارٹی نے مخصوص نشستوں پراسمبلی رکنیت دی اور کابینہ میں شامل
کیا۔
بحیثیت وزیر اور ایم ایل اے صدف شیخ کی کارکردگی مثالی رہی۔۔۔لوگوں
نے دیکھا جب وہ سیاست میں آئی تو چند نام نہاد علاقہ کی کھڑپینچ جو تعلق اور رشتہ
داری تک سے مکر گئے۔۔۔وہی کھڑپینچ۔۔۔صدف شیخ کی گاڑی کا دروازہ فخر سے کھولتے اور
بند کرتے نظر آئے۔
آج ایک مرتبہ پھر یہ بہادر خاتون ایک شوہر اور پی پی کے نامزد امیدوار جاوید ایوب
کی کامیابی کیلئے میدان عمل میں ہے اور دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔صدف شیخ کی بدولت
کوٹلہ جیسے پسماندہ علاقہ میں خواتین اور پسماندہ طبقات کو زبان ملی اور سیاست سے
اجارہ داری کا خاتمہ ہوا۔اس بہادر لڑکی کی جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی۔یقینا
صدف شیخ کوٹلہ یا مظفرآبادنہیں بلکہ پورے آزادکشمیر کا فخر ہیں۔۔۔اور آئندہ بھی
کامیابیاں ان کا مقدر بنیں گی۔ صدف شیخ کی جدوجہد کی بدولت پی پی پی حلقہ کوٹلہ کی
سیٹ آسانی سے جیتتی نظر آ رہی ہے۔آزادکشمیر کی خواتین دوبارہ اور عوام انہیں
دوبارہ اسمبلی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔